تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 231
۲۲۸ ہے کہ جن کے علاوہ خو د کفر کے فتاوی موجود ہوں وہ کسی طرح دوسروں پر گھر کا فتولی صادر کرتے ہیں۔ان ہی فرقہ بندیوں کی وجہ سے ہندوستان میں مسلمانوں پر اوبار کی گھٹائیں رہیں اور یہی فرقہ بندی اور عقائدی جنگ آج پاکستان کے مسلمانوں کی شیرازہ بندی کو ختم کرنے اور اُنہیں باہم متصادم کرنے کے لئے مشروع کی جارہی ہے جس کو فتنہ عظیم کہنا بیجا نہ ہو گا جہاں تک عقائد ہی اختلافات کا تعلق ہے وہ ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔بڑے بڑے مصلحان دین اور برگزیدہ ہستیوں کی ان تھک کوششوں کے با وجود یہ اختلاف قائم رہے پھر بھلا یہ ہمارے موٹر نشین اور نرم گروی کہ استراحت کرنے والے علماء جو اپنے نفس کی فرمانبرداری کا کسی حد تک عہد کر چکے ہیں اور جن کا عودوا من ملوث ہے کس طرح اُن سے کوئی توقع کی جا سکتی ہے ؟ ہوشیار باش : آج پاکستان میں جس تحریک کا آغاز کیا جا رہا ہے۔جا بجا جیسے کر سکے کمیٹیاں بنائی جا رہی ہیں اور فنڈ اکٹھے کئے جارہے ہیں کیا اس تحریک کا مقصد خدایت اسلام ہے؟ کیا اس تحریک سے مسلمانوں میں ختم نبوت کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے ؟ کیا اس سے پاکستانی مسلمانوں کی تنظیم پر ضرب نہیں لگتی ہے کیا اس تحریک سے استحکام پاکستان پر چوٹ نہیں پڑتی ؟ آخر یہ اتنی مقدرت کے بعد یاسی کڑھی میں کیوں ابال ہے ؟ کیا اس میں سیاسی اغراض پوشیدہ نہیں ہیں ؟ کیا اس طرح و شمنان پاکستان کے عزائم کو تقویت نہیں پہنچتی ؟ اور کیا یہ پاکستان اور پاکستانیوں سے غداری نہیں ہے ؟ مسلمان بالکل سادہ واقع ہوا ہے۔اسے یاد ہی نہیں رہتا کہ آج جو معصومیت کا چولہ بین کر ان کے سامنے آیا کل وہ کون تھا ؟ اور قوم کے لئے کس طرح کا عذاب بنا ہوا تھا ؟ یہی ہم اسے احتراری علماء کرام اور احراری بھائی قیام پاکستان کی مخالفت میں ہندو دوستوں کی آغوش میں بیٹھے ہوئے مسلمانوں کی پھبتیاں اُڑانے میں کونسی کسر چھوڑ رہے تھے مسلم لیگیوں اور مسلم لیگ پر دشنام طرازی سے کسی وقت چور کتے تھے؟ کیا انہوں نے قائد اعظم پر گھر کے فتوے نہیں جاری کئے ؟ کونسا ہوا لفظ مضا جوان مولوی حضرات نے قائد اعظم کی بیان میں استعمال نہیں کیا ؟ پاکستان بھی جانے پر طوعاً و کرہا ہمارے ان استرادی بھائیوں نے پاکستان بننا قبول کیا۔کیونکہ بھارت کی زمین ان کے لئے تنگ تھی۔ہندوؤں نے کہ دیا کہ جب تم اپنے بھائیوں کے ہی نہ ہوئے تو