تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 230
۲۲۷ بنگالی اخبار انصاف نے اپنے ۵ را اگست ۱۹۵۲ء کے پرچہ میں ایک اداریہ لکھا جس کا آخری حصہ درج ذیل ہے :- چوہدری ظفر اللہ خان کی مغرب زدہ مارجی پالیسی کو جو لوگ نا پسند کرتے ہیں وہ بھی ان کے خلات افواہیں پھیلانے والے اخبارات اور ملک کی متعصب پارٹی کے غیر روا دارانہ رویے اور نا جائز پراپیگنڈے کو دیکھ کر دلی صدمہ محسوس کرتے ہیں۔پاکستان کی سیاست میں یہ لوگ فرقہ پرستی کا زہر داخل کر رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میں پاکستان کے لئے ایک ترقی یافتہ ملک بننا نا ممکن ہو جائے گا۔آیا فرقہ قادیانیہ مسلمان ہے یا نہیں ؟ اس سوال کو اُٹھا کر جو ان لوگوں نے وزیر خارجہ کے خلاف جنگ شروع کی ہے اس سے طبعاً یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ پاکستان کے دشمن ہیں۔اس قسم کی تفرقہ اندازی کو جتنی جلدی روکا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔یہ (ترجمہ) پاکستانی پریس کی طرف سے احراری تحریک کے سیاسی مطالبہ اقلیت کا ند ہی رد عمل پہلوؤں پر جو رد عمل ہوا اس کا ذکر آچکا ہے، آپ یہ بتانا باقی ہے کہ جہاں تک اس مطالبہ کے مذہبی پہلو کا تعلق تھا اُس زمانہ کے بعض سنجیدہ، باوقار اور مذہبی اقدار کے علمبردار رسائل و اخبارات نے اسے فتنہ تکفیر سے تعبیر کیا اور اس کی پر زور دقت کی جس کے ثبوت میں حیدرآباد سندھ کے اخبار ناظم، پشاور کے اختبار تنظیم اور کوئٹہ کے رسالہ کو ہسار کے ادارتی نوٹ درج ذیل کئے بجاتے ہیں۔ا۔اخبار ناظم حیدر آباد (سندھ) نے ۲۷ جولائی ۱۹۵۲ء کے پرچہ ہمیں اس فتنہ کو قلب پاکستان میں چھرا گھونپنے کی ناپاک سازش قرار دیتے ہوئے لکھا:۔کفر سازی : ہمارے علماء کرام کو فر سازی کا پورا ملکہ ہے تبلیغ دین کی بجائے کفر کرسی آج کل ان کا محبوب مشغلہ بن گیا ہے۔غیر مسلموں کو مسلمان بنانے کی بجائے خود مسلمانوں کو کافر بناتے ہیں۔دیوبندی علماء کی تحریرات ملاحظہ کیجئے۔بریلوی علماء کو گھر کی سند دیتے نظر آئیں گے اور بریلوی علماء کے دربار سے دیوبندیوں کو گھر کا سرٹیفکیٹ ملے گا وغیرہ وغیرہ شستی ، شیعہ ، مقلد غیر مقلد وہابی بدعتی خدا معلوم کتنے فرقے ان علماء کی بدولت پیدا ہو گئے اور کتنے اور پیدا ہوں گے۔کمال یہ نے بحوالہ افضل ہے۔اتفاء ۱۳۳۱ پیش کرے۔اکتوبر ۱۹۵۲ء ص 4