تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 229 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 229

۲۲۶ روز نامہ"ملت" (ڈھاکہ) نے ور اگست ۱۹۵۲ء کے پرچہ میں چوہدری محمد ظفر اللہ نشاں صاحب کے استعفی کی خبر پر حسب ذیل ریمارکس دئیے :- کراچی میں چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے استعفیٰ کی خیر غیر سرکاری طور پر جاری ہے۔گذشته 14 اگست کو یہ خبر ڈی کہ وزیر خارجہ نے استعفیٰ دے دیا ہے لیکن وزیر اعظم نے دوسرے زراء سے مشورہ کر کے ان سے استعفیٰ واپس لینے کو کہا ہے۔وزیر خارجہ کے استعفیٰ کی ابھی تک صرف افواہ ہی ہے لیکن اِس میں کوئی شک نہیں کہ ان کا استعفیٰ دے دینا قرین قیاس بھی ہے اور اس سے جو نقصان ہوگا اس کے خیال سے پاکستان کے تمام بہی خواہوں کا پریشان ہونا ایک طبعی امر ہے۔بین الاقوامی سیاست کے میدان میں پاکستان نے جو مقام حاصل کیا ہے وہ صرف چوہدری ظفر اللہ خان کی سیا نفشانی اور مساعی جمیلہ ہی کا نتیجہ ہے۔ایک قابل سیاستدان کی حیثیت سے انہوں نے تمام حکومتوں کی نگاہ تخمین و استعجاب کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے، مصر، ٹیرونیشیا، ایران اور فلسطین کی جنگ آزادی میں ان کی گرانقدر امداد کی اہمیت سب کے نزدیک ستم ہے۔اقوام متحدہ کی تنظیم جو با وجود طرفداری کے ارادے اور نیت کے بہندوستان کی جنبه داری نہیں کر سکی تو اس کا موجب وہ براہین قاطعہ کے پہاڑ ہیں جو انہوں نے اپنے حسن خطابت سے ان کی راہ میں رکھ دیئے ہیں۔ابھی تک مسئلہ کشمیر عمل ہونے میں نہیں آیا اور ان دنوں یہ سوال ایک نازک مرحلے میں ہے اور انہی دنوں میں ہر سہ فریق خصومت کی مجلس (جنیوا میں شروع ہونے والی ہے ایسے وقت میں چوہدری صاحب کے استعفیٰ کا امکان نمایت و ریہ تکلیف دہ ہے۔اگر واقعی انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔۔۔اور وہ استعفیٰ منظور بھی کر لیا گیا تو مملکت پاکستان کو ایسا نقصان پہنچے گا کہ پھر تلافی نہ ہو سکے گی۔۔۔پاکستان کے سامنے جبکہ کشمیر کا مسئلہ ابھی لانچیل ہے ایسے وقت میں ظفر اللہ خان جیسے آدمی کو کھو دینا بڑی غلطی ہے۔آخر پاکستان کے اعلیٰ محمد وں پر بعض یورپین اور دوسرے غیر مسلم بھی تو کام کر رہے ہیں اسی طرح اگر ظفر اللہ خاں سے بھی کام لیا جائے تو اس میں پاکستان کا کیا نقصان ہے؟ ہمارے مسلمان بھائیوں کی اس تحریک نے تو فقط یہی ثابت کیا ہے کہ مخالفت رائے کو برداشت کرنے کی تربیت ابھی ہمیں حاصل نہیں ہوئی لیے (ترجمہ) لے روزنامہ ملت ڈھاکہ ور اگست ۱۹۵۲ ( بحوالہ روزنامه الفضل لاہور س ا ستمبر ۰۶۱۹۵۲