تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 227 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 227

۲۲۴ ناہوں کی ایک خبر سے ظاہر ہے کہ احراری پارٹی کے لوگ مسجدوں یاں گھوم گھام کر خلاف فرقہ قادیانیہ تحریک کے لئے عام لوگوں کی امداد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن بہت سے مقامات میں ان کی یہ کوشش ناکام ہوئی ہے۔لاہور کے قانون پیشہ لوگوں کا خیال ہے کہ احرار کی یہ تحریک اہل پاکستان کے اتحاد کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی ایک خطر ناک کوشش ہے۔اسلامی دنیا کے لیڈر کی حیثیت سے ملک پاکستان کو دنیا میں جو مقام اور عزت حاصل ہے احراریوں کی یہ تحریک صرف اس مقام کو گنوانے اور عزت کو بٹہ لگانے کی خاطر جاری ہے وہ لوگ ریعنی لاہور کے قانون پیشہ) یہ امید رکھتے ہیں کہ رائے عامہ کا تعاون حاصل نہ ہونے کی وجہ سے یہ تحریک آہستہ آہستہ اپنی طبعی موت مر جائے گی تاہم پاکستان میں اس قسم کے خود غرض لوگوں کی کمی نہیں ہے جو اس قسم کی فساد انگیز تحریکات اور ذلیل اور ناجائز پروپیگنڈے کے سہارے سے اپنے ناجائز مقاصد حاصل کرنے کی کوشیش کرتے رہتے ہیں اس قسم کے لوگ اس طرح کے فسادوں کے لئے لوگوں کو اُکساتے رہتے ہیں۔حکومت اگر سختی سے اِن فسادات کی روک تھام کا انتظام کرے تو حکومت اور عوام دونوں کی خیر اسی میں ہے لیے (ترجمہ) بنگال کے ہفت روزہ شیئی نیک اپنی اشاعت مورخہ ۲۷ جولائی ۱۹۵۲ء میں لکھتا ہے:۔ان دنوں مغربی پاکستان میں احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تحریک کا بہت چر چاہیے افواہ ہے کہ مرکزی مجلس کے وزراء کے بعض ایسے ارکان نے جو اپنا اقتدار بڑھانا چاہتے ہیں غالباً اس تحریک کی بنیا د رکھی ہے۔چوہدری ظفر اللہ خاں جو مرکزی مجلس وزراء کے نمبر ہیں آئندہ انکے وزیر اعظم ہو جانے کا امکان ہے۔اسی ڈر سے ان کو ملیں وزراء سے خارج کرانے کے لئے غالباً احمدیت کے خلاف تحریک پیدا کی گئی ہے۔یہ امر اس بات سے ظاہر ہے کہ ہر جگہ احمدیت کی مخالفت کے ساتھ ساتھ چوہدری ظفر اللہ خان کی برطرفی کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے۔ان دنوں مختلف مقامات پر اس بات پر فسادات بھی ہوئے ہیں اور ملتان میں اسی شورش کی وجہ سے پولیس لوگوں پر گولیاں پھلانے پر بھی مجبور ہوئی۔۲۱ جولائی کو شہر بغداد الجدید (ریاست بہاولپور) سهروردی صاحب ے روزنامہ ستیہ جوگ ڈھاکہ ۲۴ جولائی ۱۹۵۲ء بحوالہ روزنامه افضل لاہور اور اگست ۱۹۵۷ مطابق اس ظهور ۱۳۳۱ ش صدا :