تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 223 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 223

۲۲۰ کہیں تو عوام کو قادیانی اور غیر قادیانی کا غلط فلسفہ سمجھا کر اپنے ہمخیال بنانے کی کوشش کرتے اور کہیں خلیفہ جماعت احمدیہ کے خلاف عدالت میں استغاثہ پیش کرتے ہیں تا کہ عوام کے دلوں میں فرقہ احمدیہ کے خلاف بدظنی قائم رہے اور وقت ضرورت یہ حضرات جہلاء کو جیتی ہوئی آگ میں دھکیل دیں۔ان حضرات کی غلط روش کی ایک زندہ مثال میرے پاس موجود ہے جو عنقریب ایک خاص ایڈیشن میں بمعہ نام عوام کے سامنے پیش کر دیں گے۔پولٹن مارکیٹ کے پاس نیومین مسجد زیر تعمیر تھی چند علماء حضرات میرے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ حکیم صاحب آپ کے اخبار کے لئے دس ہزار روپیہ دلوانے کے لئے ہم ذمہ دار ہیں اگر آپ اس فتوی کو اپنے اخبار میں شائع کر دیں۔یکس نے شائع کرنے کا وعدہ کر لیا اور فتوئی ان حضرات سے لے لیا جس میں لکھا تھا کہ ایس ہمیں مسجد میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔اس فتویٰ پر تیرہ مقتدر علماء حضرات کے دستخط بمعہ مہر ثبت ہیں۔میں نے دوسرے ایڈیشن میں مختصر واقعات لکھتے ہوئے آخر میں لکھا تھا کہ اصل فتوئی میرے پاس موجود ہے۔پہر شخص میرے دفتر میں آکر دیکھ سکتا ہے۔فتولی یکس نے اس وجہ سے شائع نہیں کیا کہ مجھ کو یقین تھا کہ یہ علماء حضرات قوم میں ٹکراؤ پیدا کرنیکی کوشش کر رہے ہیں اور بعد میں چندے بازی سے جب میں گرم کریں گے۔آج یہی علماء حضرات جنہوں نے فتوی دیا تھا اسی نیو میمن مسجد میں خود نماز پڑھتے ہیں اور لمبے لمبے وعظ کرتے ہیں۔یہ حالت ہے ان حضرات کی ہے ہفتہ وار سٹارٹ، کراچی ۲۳ اگست ۱۹۵۲ء نے اپنے اداریہ میں لکھا:۔اب جبکہ احمدادی احمدی تنازعہ سے پیدا شدہ شور و غوغا کچھ مدہم ہو گیا ہے تو آئیے ہم ایک لمحہ کے لئے بیٹھ کر غور کر ہیں کہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے اور چوہدری محمد ظفر اللہ خان کو مرکزی وزارت سے علیحدہ کرنے کے جو طالبات کئے جارہے ہیں اُن کے سیاسی نتائج کیا ہو سکتے ہیں ؟؟ حکومت پاکستان نے حسب معمول نرم طریقے سے پوزیشن کو صاف کرنے کی کوشش کی ہے ا بحوالہ روزنامہ الفضل لاہور موریہ ۱۲۸ نومبر ۱۹۵۲ء صل