تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 222
۲۱۹ ہے کہ موجودہ حکمران احرار اور جماعت اسلامی کے بزرگوں کے حق میں دستبردار ہو جائیں ورنہ اختراق وتشتت کے بیچ کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے نہایت موثر اور مدتل پراپیگنڈا کی ضرورت ہے جو پاکستان کے سادہ لوح مسلمانوں کے ذہنوں اور دلوں میں اس حقیقت کو جگہ دے سکے کہ ماضی میں مسلمانوں کی کئی شاندار حکومتیں فتوی ساز علماء کے ہاتھوں صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں اور اگر یہاں پاکستان میں بھی جو کئی مسلم فرقوں کا ملک ہے فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دی گئی تو پاکستان اور پاکستان کے مسلمانوں کا بھی وہی حشر ہو گا جو ماضی میں کئی شاندار اسلامی سلطنتوں کا ہو چکا ہے کابل اور امان اللہ کی مثال سامنے ہے۔آخر میں ہم اس حقیقت کا اظہار ضروری سمجھتے ہیں کہ نہ احرار سے ہماری فی سبیل اللہ دشمنی ہے اور نہ ہی ہم احمدی ہیں البتہ احرارا اور احمد می جنگ کے نتیجہ میں پاکستان کو نقصان پہنچنا کسی حالت میں برداشت نہیں کر سکتے ہے کراچی کراچی پریس نے بھی ان ملک دشمن سرگرمیوں پر تنقید کی چنانچہ ہفت روزہ مسلم آواز کے لکھا:- ہ یوں تو یہ حقیقت مدتوں قبل بے نقاب ہو چکی بلکہ اسلامی دنیا کے علاوہ یورپ کے تمام ممالک کے سیاستدان تسلیم کر چکے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے تمام امور ہیں۔۔۔آج تک جو اعلی خدمات انجام دی ہیں ان کے ہر پہلو کے نقش و نگار کو دیکھ کر بڑے بڑے مدیترین وقت انگشت بدنداں ہیں۔امور خارجہ میں سیادت تدبیر کے اعتبار سے ایک طرف آپ سارے ایشیا کے لئے سرمایہ ناز و صد افتخار ہیں تو دوسری طرف اکناف عالم میں سیاسی دانش کے آئینہ دار بھی۔وہ اوصاف اور قابلیت کے وہ جوہر ہیں جن کی قدر قائد اعظم اور قائد ملت کرتے تھے لیکن افسوس بھارتی ایجنٹ اور لبعض احراری علماء جو کل تک کانگریس کی ہمنوائی اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے قائد اعظم اور سلم لیگ میں شریک ہونے والوں کو گھر کا فتویٰ دیتے تھے آج ایک طرف پاکستان کا ایمیل لگا کر ملک اور ملت ہیں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں تو دوسری طرف امذ ہب کی آڑ لے کر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔لے بحوالہ روزنامہ الفصل“ لاہور مورخہ ۲۱ اکتوبر ۱۹۵۲ء صدا