تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 218 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 218

۲۱۵ سکتی۔معلوم نہیں احرار کو پاکستان کی وفاداری کا بار بار اظہار کرنے کا مروڑ کب سے اٹھا ہے بانی پاکستان قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ للہ تعالیٰ ان کی روح پر لاکھ لاکھ رحمتیں نازل فرمائے، ان کے متعلق احرار جو کچھ کہا کرتے تھے فحاشی کی ڈکشنری بھی اس سے شرمسار ہو جاتی تھی۔اور ابھی چند ہی روز قبل کی بات ہے سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے ایک تقریر کے دوران کہا تھا میں قائد اعظم ہوں جاؤ جو کچھ میرا کر سکتے ہو کر لو یا اس پر بھی مسلمان ان کی پاکستان ہمدردی کے قائل ہو جائیں تو یہ ان کی بدقسمتی ہے۔جب بھی ملک پر کوئی مصیبت آئے گی احرار کے ہاتھوں آئے گی۔نوٹ کر لیں۔مسئلہ ختم نبوت کی نوعیت اور اہمیت سے ہمیں کوئی اختلاف نہیں لیکن اس کی باگ ڈور ایک ایسی پارٹی کے ہاتھ میں دے دینا جو اپنے وقار کے لئے سرگرم عمل ہو ترین دانش و عقلمندی نہیں مسلمانوں کو ٹھنڈے دل سے اس پر غور کرنا چاہئیے اور حکومت اس سلسلہ میں جو کچھ کر رہی ہے یا آئندہ کر رہے گی وه مسلمانان پاکستان و مملکت پاکستان کے شایان شان ہوگا اور دنیا بھر میں اہمیت اور فوقیت حاصل کرنے والا پاکستان قرین انصاف و دانش طرز عمل اختیار کرے گا۔حکومت کسی بھی جماعت کو اس کے حقوق سے محروم نہیں کر سکتی۔احرار کو تبلیغ کا جواب تبلیغ سے دینا چاہیے اور حکومت کو مجبور و پریشان کرنے یا عوام کو اس کے خلاف اکسانے کا طرز عمل ترک کر دینا چاہیئے۔مسلمان عوام نہایت صائب رائے اور دانشمند ہیں اور وہ ہر معاملہ میں حکومت کا ساتھ دیں گے اور پاکستان کی شہرت و سالمیت کو کبھی مجروح نہ ہونے دیں گے اور ہر معاملہ میں ٹھنڈے دل سے سوچ بچار کریں گے اور وقتی جوش میں کوئی ایسا اقدام نہ کر یں گے جو بعد میں انہیں کون افسوس ملنے پر مجبور کر دے۔وما علینا الا البلاغ له صوبہ سرحد مغربی پاکستان کا واحد صوبہ تھا جہاں عبد القیوم خاں صاحب کی مسلم لیگی صوبہ سرحد وزارت کے ہاتھوں صورت حال مکمل طور پر قابو میں تھی۔اس صوبہ کے اخبارہ تنظیم نے اس نام نہاد تحریک کو ختم پاکستان کی سازش قرار دیتے ہوئے لکھا :۔لے اخبار " لا حول (گوجرانوالہ) ستمبر ۱۹۵۲ء بحوالہ روزنامہ الفضل لاہور مورخہ ۲۵ ستمبر ۱۹۵۲ء مطابق ۲۵ تبوک ۱۳۳۱ مش مش به