تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 9
فصل دوم جلیل القدر صحابكا انتقال اصحاب مہدی موعود کا پاک گروه ۱۳۲۶ مش / ۱۹۴۷ء کی ہجرت کے بعد بڑی تیزی کے ساتھ اس جہان فانی سے رخصت ہو رہا تھا اور جماعت احمدیہ آئی مبارک وجودوں سے جلد جلد خالی ہونے لگی تھی جن کو تیرہ سو سال کے بعد خدا کے ایک مرسل کا خدا نما چہرہ دیکھنے اور اس کی با برکت صحبت میں بیٹھنے کا موقعہ نصیب ہوا تھا۔۳۳۰ امیش / ۱۹۵۱ء میں جو ممتاز بزرگ صحابہ رحلت فرما گئے انکا منتر تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے :- ۱ - حضرت صاحبزادہ حاجی پیر افتخار احمد صاحب لدھیانوی : (ولادت ها در شعبان ۱۳۸۲ تله مطابق ۳ ر جنوری ۶۱۸۲۶- زیارت ۱۱۸۸۴ - بیعت اور جولائی ۶۱۸۹۱- وفات و سر درجنوری ۱۱۹۵۱) سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے ازالہ اوہام میں اپنے مخلصین ومحبتیں ہیں آپ کا ذکر نہایت پیارے اور محبت بھرے الفاظ میں کیا ہے حضور تحریر فرماتے ہیں :- حتی فی اللہ صاحبزادہ افتخار احمد۔یہ جوان صالح میرے مخلص اور محبت صادق حاجی حرمین شد منشی احمد جان صاحب مرحوم و مغفور کے خلف رشید ہیں اور مقتضائ الوَلَدُ سِر لِأَبِيهِ تمام محاسن اپنے والد بزرگوار کے اپنے اندر رجمع رکھتے ہیں۔اور وہ مادہ اُن میں پایا جاتا ہے جو ترقی کرتا کرتا فانیوں کی جماعت میں انسان کو داخل کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ روحانی غذاؤں سے اُن کو حصہ وافر بخشے اور اپنے عاشقانہ ذوق و شوق سے سرمست کرے یا شے نیز فرماتے ہیں:۔روایات صحابہ (غیر مطبوعہ رجسٹری ما : سے رجسٹر بیعت (غیر مطبوعہ) ه الفضل لاہور ار صلح ۱۳۳۰ پیش / ۱۱ جنوری ۱۹۵۱ ء ص ب شے ازالہ اوہام علام (طبع اول)