تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 8
با بیت الذکر میں خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتے ہیں پھر چار بجے کے قریب مسجد مبارک میں باجماعت تجد پڑھتے ہیں۔اُس وقت میں درد کے ساتھ آخری رکھتیں ادا ہوتی ہیں اور جس سوز و گداز کے ساتھ آہ وزاری کی آوازیں بلند ہوتی ہیں اُن کی نظیر ملنا محال ہے۔یقیناً یہ انعام باقی دنیا سے منقطع ہو جانے کا ہی ہے کہ درویشوں کو انقطاع الی اللہ کی آسمانی اور لازوال دولت حاصل ہے۔ان پاکی بندوں کی اس کے سوا کوئی خواہش نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے جلد پورے ہوں اور اسلام کی آخری فتح قریب سے قریب تر آجائے۔در ولیش ذکر و شکر کے ساتھ، اپنے دیگر فرائض سے غافل نہیں بہشتی مقبرہ میں چوبیس گھنٹے پہرہ دینا اُن کے معمول میں شامل ہے۔وہ تبلیغ اسلام کا کوئی موقع ہاتھ سے بجانے نہیں دیتے۔ان کے ریم و ثبات کا اثر ہے کہ دنیا کے دُور دراز علاقوں سے سیاح اور زائرین ہزاروں کی تعداد میں قادیان آتے ہیں۔رجسٹر زائرین کے مطابق گزشتہ پانچ سال میں قریبا تیس ہزا ر ہندو سکھ اور عیسائی اور غیر ملکی باشند سے محض زیارت قادیان کے لئے آپکے ہیں وہ ان کو جی بھر کے تبلیغ کرتے ہیں۔انہیں اسلام کا پیغام پہنچاتے اور لڑکچر دیتے ہیں۔اس بے بضاعتی کے عالم میں بھی انہوں نے ہندوستان کی احمدی جماعتوں کو منظم کر لیا ہے۔انکے مبلغ ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں جاتے اور اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں۔الغرض وہ اس ملک میں اسلام کی عظمت کا نشان ہیں اور اس کی سربلندی کی خاطر کوہ وقار بن کر اپنی بیگہ ڈٹے ہوئے ہیں اور اس یقین سے لبریز ہیں کہ بالآخر اسلام ہی دنیا پر غالب آئے گا۔اس یقین کے بر ملا اظہار سے وہ قطعاً نہیں ڈرتے بلکہ اپنی تقریروں میں برملا کہتے ہیں کہ ایک وقت آئے گا جبکہ احمدی دنیا میں غالب ہو کہ رہیں گے۔یہ خدائی تقدیر ہے جسے دُنیا کی کوئی طاقت بدل نہیں سکتی ہے اه المخصاً از افضل و صلح ۳۳۱ بیش / جنوری ۱۹۵۲ء ص وصت به