تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 197
۱۹۴ ایسے ٹھوکریں نہ لگیں۔وہ مخالفت کی آگ میں نہ پڑے۔پس ہماری جماعت کو ہمیشہ یہ امریز نظر رکھنا چاہیئے کہ جب اس نے یہ دعوی کیا ہے کہ ہم ایک مامور زمین اللہ کی آواز پر لبیک کہنے والے ہیں تو انہیں ابتلاؤں اور آزمائشوں کی بھٹی میں ڈالا جائیگا غدا تعالیٰ فرماتا ہے وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ۔اگر یہ سچ ہے کہ تم ایمان لائے ہو تو یہ بات بھی سچ ہے یہ یہ کہ تمہیں ابتلاؤں میں ڈالا جائے گا حضور نے یہ حقیقت ذہن نشین کرانے کے بعد ارشاد فرمایا :- پس ہماری جماعت کو مشکلات کے مقابلہ میں دعا اور نماز کی طرف تو یقہ کرنی چاہیئے۔میرے تو ہم میں بھی یہ نہیں آیا کہ کوئی احمدی نماز چھوڑتا ہے۔اگر کوئی ایسا احمدی ہے جو نماز کا پابند نہیں تو یکی اسے کہوں گا کہ وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس وقت تم پر نمازگراں نہیں ہونی چاہیئے مصیبت کے وقت میں نمازگراں نہیں ہوتی مصیبت کے وقت لوگ دعائیں مانگتے ہیں گریہ وزاریاں کرتے ہیں۔۱۹۵ء میں جب زلزلہ آیا تو اس وقت ہمارے ماموں میر محمد اسمعیل صاحب لاہور میں پڑھتے تھے آپ ہسپتال میں ڈیوٹی پر تھے کہ زلزلہ آیا۔آپ کے ساتھ ایک ہند و طالب علم بھی تھا جود ہر یہ تھا اور ہمیشہ خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق ہنسی اور مذاق کیا کرتا تھا جب زلزلہ کا جھٹکا آیا تو وہ رام رام کر کے باہر بھاگ آیا جب زلزلہ رک گیا تو میر صاحب نے اُسے کہا تم رام پر مذاق اڑایا کرتے تھے اب تمہیں رام کیسے یاد آ گیا ؟ اس کے بعد خوف کی حالت بھاتی رہی تھی۔زلزلہ ہٹ گیا تھا۔اس نے کہا یونی عبادت پڑی ہوئی ہے اور منہ سے یہ لفظ نکل جاتے ہیں۔ایسی حقیقت یہ ہے کہ مصیبت کے وقت خدا تعالیٰ یاد بجھاتا جس شخص کو مصیبت کے وقت بھی بعد اتعالیٰ یاد نہیں آتا سمجھ لو کہ اُس کا دل بہت شقی ہے۔وہ ایک ایسا لا علاج ہو گیا ہے کہ خطرہ کی حالت بھی اسے علاج کی طرف تو یہ نہیں دلاتی پس اگر ایسے لوگ جماعت میں موجود ہیں جو نماز کے پابند نہیں تو میں انہیں کہتا ہوں کہ یہ وقت ایسا ہے کہ انہیں اپنی نمازوں کو پکا کرنا چاہئیے اور جو نماز کے پابند ہیں میں انہیں کہتا ہوں آپ اپنی نمازیں ستوار ہیں اور جو لوگ نماز سنوار کو پڑھنے کے عادی ہیں میں انہیں کہتا ہوں کہ بہتر وقت دعا کا نتید کا وقت ہے نماز عید کی عادت ڈالیں۔دعائیں کریں کہ خدا تعالیٰ ہماری مشکلات کو دور فرمائے اور گوں کو صداقت قبول کرنے کی توفیق دے مجھے اس سے کوئی واسطہ نہیں کہ دشمن کیا کہتا ہے لیکن