تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 7
امیر قافلہ نے واپسی پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ امیر قافلہ کے تاثرات ۲۴ دسمبر کی رات کو گیارہ بجے ہمارا قافلہ نہر کا پل عبور کر کے عدد قادیان میں داخل ہوا۔جونہی منارہ اسی پر ہماری نگاہ پڑی تو بیعت میں عجیب رقت پیدا ہوئی تقسیم کے وقت مشرقی پنجاب میں مساجد و مقابر اور دینی مدرسوں کی بربادی اور ویرانی کا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر گیا اور جہاں ان کی خستہ حالی سے دل میں ایک درد پیدا ہوا وہاں خدا تعالیٰ کی تحمید و تمجید کی طرف بھی طبیعت مائل ہوئی کہ ایک مقدس بیستی اس خطہ میں ایسی بھی ہے جو اللہ تعالیٰ اور مستند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر سے معمور ہے۔ہمارا قافلہ ابھی قادیان سے میل ڈیڑھ میل کے فاصلہ پر تھا کہ ہم نے وہاں دس بارہ سال کے ایک بچہ کو استقبال کے لئے موجود پایا۔حضرت امیر صاحب جماعت احمد یہ قادیان نے اسے یہ استہ دکھانے پر مقرر کیا تھا تا کہ ہماری بڑی بڑی لاریابی ایک خاص راستے سے ہو کر میچ پاکٹ کی بستی میں داخل ہوں وه بچه فردی مترت میں میل ڈیڑھ میل تک لاریوں کے آگے بھاگنا چلا گیا اور اس نے اُس وقت تک دم نہ لیا جب تک قافلہ درویشیوں کی بستی میں جا داخل نہ ہوا۔اس بچے کا یہ ولولہ شوق اور جذبہ اخلاص دیکھے کہ ہم بہت متاثر ہوئے۔بستی کے سرے پر درویشان قادیاں قافلے کے انتظار میں ہمہ تن شوق بنے کھڑے تھے۔لاریوں کے پہنچتے ہی تمام فضا نعرہ تکبیر اور احمدیت زندہ باد کے پر جوش نعروں سے گونج اُٹھی۔درویشوں نے ضایت محبت بھرے الفاظ سے ہمیں خوش آمدید کہا اور نہایت درجہ اشتیاق کے عالم میں ہم سے بغلگیر ہوئے قادیانی کی مقدسی لیستی بشیح کے درویشوں کا مسکن، زندہ خدا کی زندہ امانت ہے۔وہاں ہمارے رویش بھائی اپنے دن اور رات جس طرح غدا تعالیٰ کے حضور آہ وزاری میں بسر کرتے ہیں اس کے تصور ہی سے روحانی مسرت نصیب ہوتی ہے۔ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے یہ عاشق صادق عاید شب بیدار ہیں۔آدھی رات کے بعد میاں مولا بخش صاحب باورچی اور سید محمد شریف صاحب سیالکوئی قادیانی کی گلیوں میں نہایت سوز وگداز سے آواز دیتے ہیں کہ میچ پاک کے درویشو !! اٹھو تعجد کا وقت ہو گیا۔اٹھو !! اور اپنے مولا کریم کو راضی کر لو چنا نچہ درویش اُٹھتے ہیں اور پہلے بیت الرعا وفات ۲۴ و فا ۱۳۳۳ پیش / ۲۴ جولائی ۶۶۱۹۵۴