تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 179
۱۷۶ پر جملہ پوری اسلامی دنیا پر حملہ ہو گا لے سکے ه روزنامه آفاق" (لاہور) ۲۵ مئی ۶۱۹۵۲ * کے چوہدری محد ظفر اللہ خان کے عہد وزارت کی خارجہ پالیسی کی نسبت چو ہد ری محمد علی صاحب سابق وزیر انظم پاکستان کا بیان ہے کہ :۔عالیم اسلام کی آزادی، استحکام، خوشحالی اور اتحاد کے لئے کوشاں رہنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک مستقل مقصد ہے۔حکومت پاکستان کا ایک اولین اقدام یہ تھا کہ مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں ایک خیر سگالی وفد بھیجا گیا۔پاکستان نے فلسطین میں عربوں کے حقوق کو اپنا مسئلہ سمجھا اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے وزیر خارجہ ظفر اللہ خالی اس کے فصیح ترین ترجمان تھے۔علاوہ ازیں انڈونیشیا، ملایا ، سوڈان ، لیبیا، تونس، مراکش، نائیجیریا اور الجزائر کی آزادی کی مکمل حمایت کی گئی۔مغربی ایریان کے مسئلے پر پاکستان نے انڈونیشیا کا پورا ساتھ دیا کئی مسلم ملکوں کے ساتھ دوستی کے معاہدے کئے گئے اور ثقافتی ارتباط کا انتظام کیا گیا ہے۔مؤتمر عالمیم اسلامی کی تنظیم مل میں لائی گئی۔۱۹۴۹ء میں کراچی میں بین الاقوامی اقتصادی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں اسلم ملکوں کے نمائندہ سے شامل ہوئے تھے۔کانفرنس نے اتفاق رائے سے اسلامی ایوان ہائے صنعت و تجارت کا بین الا قوامی وفاق قائم کرنے کا فیصلہ کیا ا ظہور پاکستان حمام اسی کتاب میں انہوں نے چوہدری محمد ظفر اللہ خان کی خدمات کشمیر کا تذکرہ بایں الفاظ کیا ہے۔و سلامتی کونسل نے ۵ار جنوری ۱۹۴۸ء کو ہندوستان کی شکایت اور پاکستان کے جواب کی سماعت شروع کی۔ظفر اللہ خان نے مقدمہ کی ایسی اصلی وکالت کی کہ سلامتی کونسل کو یقین آگیا که مسئلہ محض کشمیر سے نام نہاد حملہ آوروں کو نکال دینے کا نہیں ہے جیسا کہ ہندوستان کا نمائندہ اسے باور کرانا چاہتا تھا بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہندوستان و پاکستان کے تعلقات کو منصفان اور پھر امن اساس پر استوار کیا جائے اور تنازع کشمیر کو ریاست کے عوام کی مرضی کے مطابق محل کیا جائے یہ ظور پاکستان از چوہدری محمدعلی صاحب مترجمه بشیر احمد صاحب ارشد - ناشر مکتب کا رواں کچہری روڈ لاہور طبع ثانی ۱۹۷۲ء مسعود پرنٹرز لاہور منت۳)