تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 173
14۔رہے تھے کہ عین اس وقت دوسرے فریق نے گڑ بڑ ڈالنے کے لئے جملہ کر دیا۔اگر یہ خبر صحیح ہے تو اس سے بعض لوگوں کی لے میری اور عدم رواداری ہی ثابت ہوتی ہے کسی معاملہ میں خاص کر مذہبی معاملات میں عدم رواداری اسلامی تعلیم کی روح کے بالکل خلاف ہے۔پاکستان اور اسلامی دنیا کے کسی کو نہ میں بھی ایسی ذہنیت کا وجود بڑے اچنبھے کی بات ہے۔ان دنوں جب کہ تمام اسلامی دنیا کے اتحاد کے خواب کو امر واقع اور حقیقت مشہودہ بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ایسے نازک وقت میں فرقہ وارانہ مناقشات کو ہوا دینا اتحاد و یگانگت کی تمام تدبیروں کو ملیا میٹ کرنے کا موجب ہوگا۔جب مسلمان کے لئے غیر مذاہب کے لوگوں کو محض اختلاف عقائد کی بناء پر تکلیف دینا اسلامی شریعت میں نا جائز ہے تو خود کسی مسلمان کو اختلاف عقائد کی وجہ سے کوئی دُکھ یا تکلیف دینا کہاں جائز ہو سکتا ہے؟ اختلاف خواہ کسی وجہ سے بھی ہو جنگل کا قانون یعنی یہ دستور کہ اپنی دادرسی آپ ہی کر لو اور جس سے اختلاف ہو اس کو بار کر تباہ کر دو قومی ترقی کے لئے ایک بہت بڑی سینہ کراہ ہے۔آج پاکستان کے ہر مرد اور ہر عورت کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئیے کہ مسلمان اپنے علم و عمل اور ریا ضمت ہی کے ذریعہ سے دوسروں کو ختم کر سکتے ہیں اس کے علاوہ اور کوئی ذریعہ نہیں ہے اسے (ترجمہ) بھارت کا مسلم پریس ار اس حادثہ کی بازگشت بھارت میں بھی شنی ا چنا نچند اخبار حقیقت (لکھنو) نے ۲۳ مئی ۱۹۵۲ء کے شمارہ میں ہنگامہ کیا ہی کی نذرت کرتے ہوئے لکھا:۔گرامی کا فرقہ وارفساد ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستان کے بنانے میں جن مسلم جماعتوں نے نمایاں حصہ لیا اور اس عد و جدیدی مسلم لیگ کی بہت زیادہ مدد کی ان میں پیش پیش جماعت احمدیہ قادیان بھی رہی ہے۔اس جماعت کے افراد نے آنکھیں بند کر کے اور بغیر انجام پر غور کئے پاکستان بنائے جانے کی حمایت کی۔آج اسی پاکستان میں اس کے لئے موصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے اور اس کو ایک غیر مسلم ے بحوالہ روزنامہ الفضل لا ہور مورخه از تبوک ۳۳۱ ایش مشه