تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 171
14A سیالکوٹ 鹪 ۱۵ اخبار در نجف سیالکوٹ نے حادثہ کراچی کے زیر عنوان اپنی ٹیم جون ۱۹۵۲ء کی اشاعت میں لکھا :۔۱۷ ۱۸ مٹی کو جہانگیر پارک کو اچی میں احمدیوں کے سالانہ اجتماع کے موقعہ پر اکثریتی عوام نے جو ناز بیا مظاہرہ کیا ہے وہ ہر حساس پاکستانی کے لئے موجب مذمت ہے۔مملکت پاکستان نئے جذبات اور بلند ترین قدروں کی اساس پر قائم ہوئی ہے جس کی صیانت اور مزید استحکام ہر محب وطن کا اولین فریضہ ہونا چاہیئے ہمیں، احمد تیت سے کوئی دلچسپی نہیں، اور نہ ان کا کوئی مسئلہ ہمارے مسائل سے میل کھاتا ہے بلکہ بلا خوف تردید ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ شیعی مسلمان جس شدت سے احمدیت کی نفی کرتے ہیں مسلمانوں کے کسی فرقہ کے معتقدات میں اتنی سختی نہیں کیونکہ شیعہ عصمت انبیاء اور نفی و جو د امام عصر کا راسخ عقیدہ رکھتے ہیں۔بر خلاف اس کے دوسرے فرقوں میں یہ اصول کچھی شہنی کی طرح لچکدار ہیں۔اند امسلمانوں کے عام مکاتب کو کسی نہ کسی گنجائش کے سیب ممکن ہے برداشت بھی کر لیں مگر تشیع تو کسی صورت بھی احمدیت وغیرہ کو کوئی جگہ نہیں دے سکتا اس کے باوجود شیعہ علماء پر لیس اور عوام نے کسی لمحہ مخالفت میں کوئی ایسا رویہ اختیار نہیں کیا جس سے شرمناک فرقہ واریت کی ہمت بڑھتی۔کیا حقیقت نہیں کہ مجلس احرار (جس کا مقصد وحید احمدیت کا استیصال ہے ) کا اسٹیج ایک عرصہ تک بد زبانی اور غیر مہذب طریق جدل کا اکھاڑہ بنا رہا مگر جب سے شیعہ علماء کو مدعو کیا جانے لگا اسی پلیٹ فارم پر مثالی شائستگی پیدا ہوگئی۔شیعہ علماء وَجَادِ لَهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَن کے قرآنی فلسفہ سے اچھی طرح واقف او وَجَادِلُهُمْ اس پر عامل ہیں۔اسی طرح شیعہ پر لیں بھی اپنی روایتی متانت کو ہاتھ سے نہیں بجائے دیتا۔عوام خواہ کسی فرقے کے ہوں ان ہی دو ذرائع سے اثر قبول کرتے ہیں۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اکثریت کے علماء اور پریس نے اپنے عوام کو اس درجہ اشتعال دلایا ہے کہ جب کبھی بھی انہیں موقعہ ملتا ہے دوسرے فرقوں کے مقابلہ میں کوہ آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑتے ہیں۔جہانگیر پارک کا حادثہ یقینا تکلیف دہ ہے لیکن ہم اس کی ذمہ داری کیسی پر عائد کئے بغیر تمام پاکستانی عوام کی خدمت میں عرض کریں گے کہ پاکستان کی تخلیق میں اقلیت کے مفہوم کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اس مملکت کے ارباب بست و کشاد کا دعوی بھی ہے کہ سبز پر تم کا سایہ اقلیتوں