تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 161
۱۵۸ تبلیغ و اشاعت میں تلوار کا بہت بڑا دخل ہے۔جو لوگ گزشتہ ہفتہ کے ہولناک واقعات کے ذمہ دار ہیں افسوس کہ انہوں نے اپنی حماقت سے ایسے دشمنان اسلام کی خود ہی تائید کر کے ان کے ہاتھ مضبوط کئے۔رسول پاک صلے اللہ علیہ وسلم) نے اپنے ماننے والوں کو بار بار تاکید کی ہے کہ وہ رواداری کے اوصاف سے اپنے آپ کو متصف کریں لیکن کیا کیا جائے تعصب اور غیظ و غضب کی گرمی نے ان لوگوں کو اندھا کر رکھا ہے۔بانی اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی روشن دماغی کا یہ ایک بین ثبوت ہے کہ آپ نے ہمیشہ اشاعت دین کی راہ میں طاقت استعمال نہ کرنے کی تعلیم دی۔یہ جھگڑا دیہی اور غیر مذہبی لوگوں کے درمیان نہیں ہے یہ جھگڑا ہے جہالت اور علم کے درمیان نام نہاد مولویوں کے اندھے مقلدوں اور ان لوگوں کے درمیان جنہوں نے اسلام کی مینیج روح اپنے اندر جذب کی ہوئی ہے۔جہاں تک مذہب اور مملکت کا تعلق ہے حکومت پر بعض فرائض عائد ہوتے ہیں۔ایسے تعصب کے قلعے سر کرنے میں ہر ممکن امداد کرنی چاہئیے۔اگر کٹر اور متعصب لوگوں کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا گیا تو لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ حکومت بھی ان عناصر سے باز پرس کرنے سے خوف کھاتی ہے جو لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔اس سے ایسے عناصر کی گردنیں اور اکڑ جائیں گی اور پھر آگے چل کر انہیں کیفر کردار تک پہنچا تا آسمانی نہ رہے گا۔اس برباد کرنے والوں کے لئے ایک ہی قانون ہے۔قانون شکنی کرنے والوں میں سے کسی کو بھی اس کے نتائج بھگتنے کے ستنقلی قرار نہ دینا چاہیے۔پشاور ۱۱- اخبار تنظیم پشاور (۲۰ مئی ۱۹۵۲ء) نے لکھا :۔حضرت قائد اعظم اور مسلمانان پاکستان و ہند کے محبوب مطالبہ پاکستان کے وقت سے لے کر قیام پاکستان سے کافی عرصہ تک ہندوؤں کے اشارہ پر پاکستان، قائد اعظم اور پاکستان کے حامی مسلمانوں کو جو بے نقطہ اور ان گنت گالیاں سے جماعت احرار نے سنائی ہیں امید ہے سلمان ایں کے شورش کا شمیری صاحب سابق جنرل سیکرٹری مجلس احرار لکھتے ہیں :۔احرار اپنے طبقاتی مزاج کے مطابق ملک کی سالمیت کو مسلمانوں کے طبقہ امراء کی سیاست قرار دیتے اور گفتنی و ناگفتنی سب کہی جاتے تھے ان کا خیال تھا کہ ملک کی تقسیم سے (باقی اگلے صفور)