تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 160
104 سارے خرمین امن کو جلا کر خاکستر نہ کر دے کیونکہ بھارتی حکومت صرف اسی وقت کے انتظار میں ہے کہ بانی پاکستان اور حکومت پاکستان کے خلاف پاکستانیوں کے جذبات کو ابھار کر پاکستان میں اختلاف پیدا کر کے حکومت پاکستان کے خلاف عوام میں جذبات نفرت پیدا کر کے پاکستان پر حملہ کر کے پاکستان کو خدانخواستہ ختم کر دیا جائے جن کی ابتداء ہندوؤں کے دیرینہ زرخرید غلاموں اور اینٹوں نے پشاور سے کر دی ہے۔اس لئے حکومت پاکستان کو سختی سے اس فتنہ کو جلد سے جلد دبا دینا چاہیے ور نہ بند ہیں پچھتانے سے کچھ نہ ہو گا۔وما علینا الا البلاغ لے ۱۰۔کراچی کے فساد پر کوئٹہ کے پارسی اخبار کوئٹہ ٹائمز نے مورخہ ۲۱ مئی ۱۹۵۷ء کا کوئٹہ باور :- ہنگامہ کراچی کے وہ مگر وہ واقعات جو حال ہی میں رونما ہوئے ایک مہذب ملک کے لئے شرم کا باعث ہیں۔صاف ظاہر ہے کہ ان کی ترمیں مذہبی تعصب اور عدم رواداری کا جذبہ کار فرما ہے۔یہ جہالت اور تعصب کی بدولت ہے کہ مذہب کے نام پر عدم رواداری کا سند یہ پروان چڑھتا ہے۔تاریخ عالم پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے آپ کو بآسانی معلوم ہو جائے گا کہ جب کبھی کسی ملک میں مذہب کی آڑ میں ظلم اور ایذا رسانی کا دور دورہ ہوا تو ترقی کی راہیں اس ملک پر مسدود ہوگئیں۔مذہب کے نام پر ظلم روا رکھنے سے انسانی فطرت مسخ ہو جاتی ہے اور جس ملک میں بھی یہ دور دورہ ہو وہ دنیا میں ذلیل ہو کر رہ جاتا ہے۔فرقہ وارانہ تنگ نظری نے جہاں راہ پائی وہیں آنکھوں پر عقب کی پٹی بندھی۔ایک مہذب اور روشن خیال قوم مذہب کے نام پر کبھی ظلم روا نہیں رکھتی علم انسان کے نقطہ نظر میں وسعت پیدا کر دیتا ہے اور انسان کیوں محسوس کرتا ہے کہ گویا وہ ایک مقدس ماحول میں زندگی کیسر کر رہا ہے۔پس ایک ایسی قوم ہی جو جہالت کی تاریکیوں میں رینگ رہی ہو نہ ہی غلامی کو برداشت کر سکتی ہے۔تاریخ ایسی واضح مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ نیک دل بادشاہوں نے رواداری کی بدولت بڑی تنظیم سلطنتیں قائم کیں اور بعد میں آنے والوں نے عدم رواداری کے ہاتھوں انہیں سفاک میں ملا دیا۔یہ کہتے ہوئے دشمنای اسلام کی زبان نہیں تھنکتی کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے یا اس کی له سه روزه ریر بہاولپور ۳۰ مئی ۱۶۱۹۵۲