تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 157 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 157

۱۵۴ (6) شیراز نے علماء کنونشن کے مطالبات پر حسب ذیل رائے کا اظہار کیا :- کراچی میں علمائے کرام اور مفتیان عظام کے ایک کنونشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ " چونکہ سر محمد ظفراللہ قادیانی ہیں اور قادیانیوں کو پاکستان سے کوئی دلچسپی اور ہمدردی نہیں ہو سکتی اس لئے انہیں پاکستان کی وزارت خارجہ کے عہدے سے الگ کہ دیا جائے اور قادیانیوں کو پاکستان میں ایک مذہبی اقلیت قرار دے دیا جائے؟ حضرات علمائے کرام نے جس بناء پر چوہدری صاحب کی برخواستگی کا مطالبہ کیا ہے ہم اس بنیاد کو پاکستان کی سالمیت ، خوشحالی، ترقی اور اتحاد کے لئے زہر قاتل سمجھتے ہیں۔اس سلسلہ میں ہماری سوچی بھی رائے یہ ہے کہ ہمارے واجب الاحترام علماء نے اس کنونشن میں جو مطالبہ کیا ہے وہ ملک اور رات کے لئے سخت تباہ کن ہے " قادیانیت کو "پاکستانیت کا حریف اور ہر قادیانی کو اینٹی پاکستان قرار دینا ایک ایسی پالیسی ہے جس سے کوئی باشعور پاکستانی اتفاق نہیں کر سکتا۔اس موقع پر جبکہ ابھی ہم اپنے قومی وجود کو برقرار رکھنے کے لئے ایک شدید جنگ لڑ رہے ہیں نرمی بنیادوں پر ایک اس قسم کے ہنگامے گرم کرنا اور سیاسیات کو خواہ مخواہ فرقہ پرستی کی عینک سے دیکھنا یا اجتماعی خود کشی کا سامان فراہم کرنا ہے ہم اس ملک کے سمجھدار طبقے سے درخواست کریں گے کہ وہ میدان میں آئے اور بغیر کسی تو تخف اور تامل کے اس قسم کے مضحکہ انگیز مطالبوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرنے۔حکومت کو بھی زیادہ عرصہ تک اس سلسلہ میں مجہول پالیسی اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اس کا فرض ہے کہ اور کسی سبب سے نہیں تو اپنے وزیر خارجہ کی پوزیشن کے تحفظ ہی کے لئے حرکت میں آئے اور ان مرعبان دین سے صاف الفاظ میں کہہ دے کہ تم فقہی تاویلات کی بناء پر سلمانوں کو کافر یا مومن بناتے ہو لیکن تمہیں یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ تم پوری قوم کے مفادات سے (اس قسم کے مطالبات کر کے کھیلوٹا لے ہفت روزه تارا (۲۲ جون ۱۹۵۲ء) نے علماء کی کنونشن کی نسبت لکھا :- کراچی میں حالی میں مفتیان عظام اور علماء کرام کا ایک عظیم الشان کنونشن ہوا اور حکومت سے ہفت روزه شیراز ، کراچی ۵ مروان ۹۶۱۹۵۲