تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 154
۱۵۱ پاکستان دشمن ملاؤں کی نظر میں سہ محمد ظفر اللہ اور احمد یہ فرقہ کے لاتعداد پیر و محض اس وجہ سے پاکستان کے غدار قرار دیئے گئے ہیں کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتے احمدیہ فرقہ کے مذہبی عقائد سے پاکستان کی ایک بڑی اکثریت کو اختلاف ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ ہم اعلان کر دیں کہ وہ تمام فرقے جو ہمارے مذہبی عقائد کو تسلیم نہیں کرتے قابل گردی زدنی ہیں اور ان پر کسی طرح اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔کل یہ اعتراض بھی ہو سکتا ہے کہ شیعہ فرقہ کے مذہبی عقائد سے پاکستان کی ایک بڑی اکثریت کو اختلاف ہے لہذا ان کے کسی آدمی کو پاکستان کا کوئی اہم عہدہ نہیں دیا جا سکتا۔اسی طرح آغا خانی، مهدوی، ذکری ، ہندو، عیسائی، پارسی اور وہ تمام لوگ جو اپنی اجتماعی جد و جہد اور پوری توانائی سے پاکستانی قومیت کی تخلیق کر رہے ہیں پاکستان کے غدار قرار دئے جا سکتے ہیں ہم حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ قبل اس کے کہ تعصب کی یہ آگ بھڑک کو اپنے ہی گھر کو بھلا ڈالے اس کے خلاف سخت انسدادی تدابیر اختیار کی جائیں۔سر چوہدری محمد ظفر اللہ وزیر خارجہ پاکستان کے خلاف عام طور پر انگریز نوازی کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے ہمیں انتہائی افسوس ہے کہ ہمارا پڑھا لکھا نوجوان طبقہ کا بینہ سے چوہدری سر ظفر اللہ کی علیحدگی کا پر زور مطالبہ کر کے یہ مجھے لیتا ہے کہ سر ظفر اللہ کی علیحدگی سے انگریز نوازی ختم ہو جائے گی۔سر ظفر اللہ کی خارجہ پالیسی خواجہ ناظم الدین اور ان کی کابینہ کی خارجہ پالیسی ہے۔مرکزی حکومت جس حکمت عملی کا تعین کرتی ہے وزیر خارجہ پاکستان ان بنیادوں پر اپنی تقاریر کا خاکہ تیار کرتے ہیں۔یہ تو انتہائی بچپن ہو گا کہ ہم سامنے کی چیزوں کو دیکھ کر بھڑک اُٹھیں اور ان اندرونی دھاروں سے چشم پوشی اختیار کریں جو ان حالات کی اصل ذمہ دار ہیں۔ہفت روزه شیراز (۲۶ مئی ۱۹۵۲ء) نے زیر عنوان " کراچی کا ہنگامہ لکھا۔قادیانی جماعت کے سالانہ اجتماعات کے موقع پر کراچی میں جو ہنگامہ ہوا ہے اس نے ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو واضح کر دیا کہ جب تک تنگ نظر متعصب مذہبی باغیوں کو ڈھیل دی جاتی