تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 147 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 147

۱۴۴ اور روحانی آزادی کے حق میں زہر کا درجہ رکھتا ہے ظلم روا رکھنے میں کیا کچھ گل نہیں کھلا سکتا۔ظاہر ہے کہ ہجوم نے تشدد اور غنڈہ گردی کا مظاہرہ اِس لئے کیا کہ وہ بعض مخصوص روحانی اور اخلاقی نظریات کے پبلک اظہار اور خارجہ پالیسی کے مزعومہ نقائص کے خلاف احتجاج کرنا چاہتے تھے حالا نکہ جہاں تک خارجہ پالیسی کا تعلق ہے ہمیں صف اول کی چند نامور ہستیوں میں سے ایک ہستی کی راہنمائی اور نگرانی حاصل ہے جس کو بجا طور پر ایشیا بھر میں علم و دانش اور فہم و فرات کا منظر قرار دیا جا سکتا ہے۔اس سر پھرے ہجوم نے یہ نعرے بلند کئے کہ قادیانی برطانیہ کے ایجنٹ ہیں ظفر اللہ کو وزارت خارجہ سے الگ کر دو اور ساتھ ہی پرامن جلسہ پر پتھراؤ بھی کیا۔ان کی یہ نعرہ بازی اور شور سنتی ان کے اس خوفناک رجحان کو بے نقاب کر رہی تھی کہ وہ لوگوں کو اتنی بھی آزادی دینے کے روادار نہیں ہیں کہ وہ مظاہرین کے مخصوص عقائد و نظریات کے سوا کوئی اور عقیدہ یا نظریہ اختیار کر سکیں ہمیں احمدیت یا کسی دوسرے فرقے کے مذہبی معتقدات کے متعلق بحث کی ضرورت نہیں۔البتہ مسلمہ طور پر ہر ایک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جلیسوں وغیرہ کے ذریعہ اپنے مخصوص مذہبی عقائد و نظریات کی تبلیغ کر سکے۔معلوم ہوتا ہے کہ ملائیت ہر قسم کی انفرادی اور اجتماعی آزادی کو پنج وبن سے اکھاڑ پھینکنے ا پر کر بستہ ہوچکی ہے اور اس مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اس نے ضروری خیال کیا ہے کہ پوری طرح مسلح ہو کہ علی الاعلان میدان میں نکل آئے۔ہمارے ملک میں ملا انزم کا قریب ان لوگوں پر بآسانی چل جاتا ہے جو احیائے دین کے تو دل سے حامی ہیں لیکن ان کے ذہنوں میں اسکی ماہیت اور اہمیت کا صرت ایک مبہم سا تصور ہے۔جہاں تک اس کے بالہ وہ علیہ کا تعلق ہے مذہبی تعصب نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی ہے اور وہ اس کے صحیح جذبات سے بالکل عاری ہیں۔ایک جمہوری حکومت شخصی آزادی کی اس حد تک، اجازت نہیں دے سکتی کہ لوگ فساد برپا کر کے فرقہ وارانہ امن کو خاک میں ملا کر یہ کھ دیں حکومت کے قیام کی غرض وغایت ہی یہ ہے کہ وہ اس کو برقرار رکھے۔بالخصوص وہ اس ذمہ داری کو تو کبھی فراموش کر ہی نہیں سکتی کہ وہ مذہبی اور سیاسی اعتبار سے ہر طبقہ خیال کے لوگوں میں اعتماد پیدا کرنے کہ وہ اپنے خیالات کا پوری آزادی