تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 146 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 146

حیثیت دے گی اور جو نہ مانے گا اُس کے خلاف تعزیری کارروائی کرتے گی ؟ ہے۔کیا حکومت کا مذہب اسلام ہے اگر ایسا ہے تو وہ کسی فرقہ سے اپنے آپ کو وابستہ اور کون سے فقہ پر عمل کرے گی۔کیا وہ کسی خاص فرقہ اور فقہ کی تائید کرنے گی ایسی صورت میں کیا مخالف فقہ رکھنے والوں کو ریاست کے فقہ کی آزادانہ مخالفت کرنے کا حق دیا جائے گا ؟ ۵۔کیا حکومت ایسے معاملات میں اکثریت کی اتباع کرے گی یا اپنے خیالات کو خواہ وہ اکثریت کے خیالات کے خلاف ہوں نافذ کرے گی ؟۔مذہب کے معاملہ میں قرار داد مقاصد کے تحت عطا کر وہ حقوق کی کونسی حدود مقر کی جائیگی ؟ ے۔متنازعہ فیہ امور کے تصفیہ کے لئے کو انسا ذریعہ مقرر کیا جائے گا ؟ مندرجہ بالا امور کا فیصلہ صاف صاف ہونا چاہیے اور لوگوں کے حقوق شہر نیت کی صدور تعلی کہ دینی چاہئیے۔تذبدب اور تامل سے اور زیادہ اُلجھنیں پیدا ہوں گی جس سے بسا اوقات خود حکومت کی اپنی پوزیشن نازک ہو جائے گی۔قرار داد مقاصد اور لیاقت علی تھاں صاحب مرحوم کے بیان میں صرف اجمالی طور پر ان اصولوں کا خاکہ کھینچا گیا ہے اور تفصیلات کو چھوڑ دیا گیا ہے۔یہ وہ خلاء ہے جس سے یہ تمامتر الجھنیں پیدا ہو رہی ہیں جتنی جلدی اس اعضاء کو گورا کر دیا جائے گا اتنا ہی ہماری مملکت کے لئے مفید ہوگا۔بالآخر ہم پھر یہ تجویز کرتے ہیں کہ جہانگیر پارک میں جلسہ کے دوران میں جو ہنگامہ ہوا اس کی پوری پوری تحقیقات کی بجائے اور قانون کے مطابق جو بھی اس کا ذمہ دار ہے خواہ وہ احمدی ہو یا غیر احمدی اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ساتھ ہی جن لوگوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے ان پر عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور اشتعال کے عذر کو عدالت کے فیصلے پر چھوڑا جائے۔ی سول اینڈ ملٹری گزٹ" کراچی کے 19 مئی ۱۹۵۳ء کے پرچہ میں سیہ کاری کے تحت ایک مقاله افتتاحیہ شائع ہوا جس کا ترجمہ یہ ہے۔(1) مئی کو ہفتہ کے روز ایک لیے لگام نکوم نے جہانگیر پارک میں احمدیوں کے جلسہ ہے۔ایہ دست ہلہ بول دیا اور منہ میں کف لا لا کر چوہدری محمد ظفر اللہ خان کے خلاف نعرے لگائے۔ان کے اس طرز عمل نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ تدریسی تعصب کا مکروہ جذبہ جو بینی