تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 145
اور دوسرے جن کا اثر مستقبل پر پڑنے والا ہے۔جہاں تک موجودہ حادثہ کا تعلق ہے دو نظر یے ہمارے سامنے ہیں۔جماعت احمدیہ کا دعوئی ہے کہ قرار داد مقاصد کے مطابق رجس کی تشریح لیاقت علی مرحوم نے مارچ ۹۴۹، کوئی ان کو سیا ہے کرنے اور اپنے خیالات کے اظہار و اشاعت کا پورا حق حاصل ہے۔یہ جلسہ حکام متعلقہ کی اجازت کے ساتھ خاص پنڈال میں منعقد کیا گیا تھا۔جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ احمدیوں کے خیالات سے ان کے جذبات مجروح ہوں گے وہ پیسہ میں شرکت کے لئے مجبور نہ تھے چنانچہ ہجوم کا نقش دا رویہ قانون کی خلاف ورزی ہے امدا ان کے خلاف موثر کارروائی ہونی چاہئیے۔برعکس اس کے علماء کہتے ہیں کہ قادیانیوں کو اس تنہم کے جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دینی چا ہئے تھی۔قادیانیوں کے عقائد مسلمانوں کے عقائد کے خلاف ہیں اور ان کی اشاعت سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے میں جلسہ میں جو تقریریں کی گئیں وہ اشتعال انگیز تھیں۔پولیس کا اقدام اس اشتعال انگیزی میں اضافہ کا باعث ثابت ہوا چند قادیانیوں کے لئے سولہ لاکھ مسلمانوں کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں اس لئے ان کو اقلیت قرار دیا جائے۔گرفتار شدگان نے چونکہ مشتعل ہو کر ہنگامہ برپا کیا اس لئے ان کو رہا کیا جائے۔ان ہر دو قسم کے خیالات کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بنیادی طور پر ایک دوسرے سے مختلف اور نا قابل اتفاق ہیں۔جہاں احمدی اپنے خیالات کو آزادانہ استعمال کرنے کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور کشتہ دکرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کو ضروری خیال کرتے ہیں وہاں دوسری طرف علماء کا یہ فتوئی ہے کہ احمدیوں کو عام ملبے کرنے اور اپنے خیالات کے آزادانہ اظہار کا کوئی حق حاصل نہیں کیونکہ دیسی سے اکثریت کے جذبات مجروح ہوتے ہیں لہذا جنہوں نے ان کے جلسہ میں تشدد کیا ہے ان کو رہا کیا جائے۔ان حالات میں حکومت کو یہ فیصلہ کرنا چاہیئے۔ا۔کیا وہ فرقے اور مذاہب جو اکثریت کے خلافت عقائد رکھتے ہیں اس بات کے مجاز ہیں کہ وہ اپنے عقائد کی آزاد اور تبلیغ کر میں خواہ اس سے اکثر تین کے دل مجروع ہی کیوں نہ ہوں ؟ پرٹیکس اس کے کیا اکثر یرہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اقلیت کے جذبات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے اپنے خیالات اعتقادات کی اشاعت کریں۔حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کے عقیدہ کو حکومت تا تونی