تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 144
۱۴۱ پیداوار ہے تو یہ جذبہ قومی استحکام کے لئے اتنا ہی مضر ہے جتنا کہ یہ خود اسلام کی اصل روح کے منافی ہے ہمارے موجودہ مقاصد کے پیش نظر قطعی غیر ضروری ہے کہ مذہبی مناقشات کا دروازہ کھولا جائے لیکن ہم پورے انشراح کے ساتھ کہ سکتے ہیں کہ چوہدری محمد ظفراللہ خان کے خلاف ہنگامہ بر پا کرنے والے سیاسی اغراض کے تحت ایسا کر رہے ہیں اور مذہب کو محض روغن قاز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ان کے اصل مقاصد پر پردہ پڑا رہے۔کوئی ہوشمند پاکستانی یہ خیال نہیں کر سکتا که چو ہدری محمد ظفر اللہ خان کا کسی فرقہ سے تعلق ملک کی خارجہ پالیسی پر کوئی خفیف سے خفیف اثر بھی ڈانی سکتا ہے۔ہر شہری کو حق حاصل ہے کہ وہ حکومت کی خارجہ پالیسی یا اس کی خامیوں پر نکتہ چینی کرے اور اگر چہ خارجہ پالیسی اور اس کی جزئیات کی تمام تر ذمہ داری مجموعی طور پر کا بینہ پر عائد ہوتی ہے پھر بھی وزیر خارجہ کی حیثیت میں چوہدری محمد ظفر اللہ خان کو زیر تنقید لایا جا سکتا ہے لیکن ان کو بدنام کرنے والوں کا طرز عمل یہ نہیں ہے۔وہ جملہ کرنے میں حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔چوہدری صاحب کے اپنے خیالات خواہ کچھ ہی ہوں لیکن ہمیں امید ہے کہ یہ امر ان کے لئے موجب اطمینان ہوگا کہ ان کو بد نام کرنے والے اہل دانش کی نظر میں خود اس قابل نہیں ہیں کہ انہیں منہ لگایا جائے۔قوم ان لوگوں کے حق میں جو پورے خلوص اور انہماک کے ساتھ اس کی خدمت کر رہے ہیں اتنی نات کر گزارہ نہیں ہو سکتی کہ وہ معدودے چند رجعت پسندی کی غوغہ آرائی سے گمراہ ہو جائے اور پھر ان گنے چنے لوگوں کی غوغہ آرائی سے جو جہالت کے محدود متعفن ما حول میں پھنسے ہوئے ہیں اور کنوئیں کے مینڈک کی طرح ساری کائنات کو اس تک ہی محدود سمجھتے ہیں " سے -- اخبار سندھ آبزرور (۲۰ مئی ۱۹۵۲ء میں حسب ذیل نوٹ شائع ہوا :- "جماعت احمدیہ کے جلسہ سے بہت سے اہم امور ہمارے سامنے آگئے ہیں جن کا فیصلہ عوام کے ذہنوں سے اُلجھی دُور کرنے اور ایسے واقعات کے سد باب کے لئے اسی وقت کرنا ضروری ہے۔اس کی وجہ اس ضرورت سے اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ہماری میں دستور ساز کی مقررہ کہ وہ سب کمیٹی بنیادی اصول کی تدوین کر رہی ہے لہذا یہ فیصلے اس رہنمائی کے لئے بہت محمد ثابت ہوں گے سہولت کے لئے ان امور کو دو حصوں میں منقسم کر دینا چاہئیے ایک وہ جو خاص اس واقعہ سے تعلق رکھتے ہیں روزنامہ ڈان کراچی مورشه ۲۲ مئی ۱۹۵۲ء ( ترجمه)