تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 141 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 141

۱۳۸ مذہب کے علاوہ دوسرے معاملات میں بھی بعض عناصر کی جرات کا یہ عالم ہے کہ وہ تشدد سے کام کر قانون کے پر نچے اڑا سکتے ہیں اور حتی کہ سیطر اقتدار کو بھی تہ و بالا کر سکتے ہیں۔کیا یہی وہ طریق ہے جس پر چل کر ہم اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں ؟ اس تمام صورت حال کا علاج کیا ہے ؟ اس کا علاج خود معاشرے میں موجود ہے۔ضروری ہے کہ ہر فرقہ کے افراد اس بڑھتے ہوئے خطرے کو جو ان کی پر امن زندگی کو دن بدن لاحق ہوتا جا رہا ہے پوری شدت سے محسوس کریں اور ان عناصر کی قطعاً ہمت افزائی نہ کریں ہو مذہب کے نام پر ناجائز انتفاع کی خاطر انہیں آلہ کار بنا رہے ہیں۔ہمارا پر لیں اور بالخصوص اُردو اور دوسری قومی زبانوں کے اشتہارات اس گند کو روکنے میں بڑی خدمت سر انجام دے سکتے ہیں لیکن موجودہ حالات میں اس کے سوا بھی چارہ نہیں کہ حکومت ختنہ پردازوں کے خلاف سخت اور موثر اقدامات کرے اور آئندہ اس امر کا انتظار ترکی کر دے کہ حالات ناز کی صورت اختیار کریں تو وہ حفاظتی سامان اشک آور گئیں اور حکومتی رعب و داب کے نشانوں سے مسلح پولیس کی مدد سے حالات پر قابو پائے۔یہ زریں دستور العمل کہ قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں، کتوں اور طغروں کی شکل میں لکھوا کر وزراء اور دیگر حکام کے کروں میں آویزاں کر دینا چاہیئے بعض لوگوں میں یہ تاثر عام ہے کہ اونچے منصب داروں اور بعض مذہب کے نام کو اچھال کرنا جائز فائدہ اٹھانے والوں کے درمیان ملی بھگت پھیلا رہی ہے وہ تمام لوگ جو اپنے اپنے مخصوص حلقہ میں نمایاں شخصیت رکھتے ہیں یقیناً اس بات کے حقدار ہیں کہ معاشرے میں ان کی عزت و توقیر کو محفوظ رکھا جائے اور با لخصوص جہاں تک حقیقی علماء کا تعلق ہے کوئی ان کے احترام سے روگردانی نہیں کر سکتا۔اگر ان میں سے کوئی عالم اور بالخصوص پیشہ ور قسم کے وہ ملاں جو روشن دماغی اور بیدار مغربی سے یکسر محروم ہیں اور جن کا کاروبار ہی لوگوں کے جذبات سے کھیلنا ہے اگر انہیں اس بات کی اجازت وی گئی که از خود افت یا را اعلیٰ کی حیثیت اختیار کرلیں اور کوئی ان کے بہکائے ہوئے یا کرایہ پر بلایم رکھے ہوئے کھیتوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنے بغیر ان کے خلاف لب کشائی نہ کر سکے تو پھر پاکستانی کا اللہ ہی حافظ ہے۔بین الا قوامی لحاظ سے ہمارے وقار کو پہلے ہی کافی صدمہ پہنچا ہے اس ہفتہ کے واقعات اس میں اور اضافہ کا سبب ہوں گے۔کیا ہم امید رکھیں کہ خواجہ ناظم الدین صاحب