تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 142 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 142

نے یہاں اور بہت سے معاملات کو سلجھا کہ اپنے ہم وتدبر کا بہت بہم پہنچایا ہے۔آپ بھی مملکت کی کشتی کو تعصب و تنفر کے متلاطم سمند ر سے نکال کر امن و عافیت کی بندرگاہ پر جلد واپس لے آئیں گے ؟ وان نے ایک اور اشاعت میں لکھا :۔گزشتہ ہفتہ کے شرمناک واقعات میں جو فتہ پنہاں تھا وہ آپ کسی نہ کسی شکل میں برابر سر اٹھا رہا ہے۔یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ بعض عناصر اپنی خطرناک سرگرمیوں سے ابھی دستکش نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی پبلک کو روزانہ مشورہ دینے والے بعض مشیروں العینی اخبارات نے انعام میمی اور مجھ بوجھ کا ثبوت بہم پہنچایا ہے۔اس حقیقت سے قطع نظر کہ عوامی زندگی کے چشمے برابر زہر آلود کئے جا رہے ہیں ان حرکات سے بیرونی ممالک میں بھی ہمارے قومی وقار کو سخت صدمہ پہنچ رہا ہے کہ چی کے چیف کمشنر نے فتنہ پر واروں کو زیر دست تنبیہ کی ہے اور ساتھ ہی حکومت کے اس عزم کا اعلان کیا ہے کہ ان شورش پسندوں کو فتنہ انگیزی کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی فی الحقیقت الینا ہی ہونا چاہئے تھا۔گزشتہ اتوار کی شب کو جو سخت اقدامات کئے گئے ان کے متعلق سستی شہرت کے دلدادہ تقریر و تحریر کے ذریعہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ کہیں اس میں شک نہیں ان اقدامات نے ایک حد تک یہ اعتماد بحال کر دیا ہے کہ حکومت میں حکمرانی کی صلاحیت موجود ہے لیکن جیسا کہ ہم نے گزشتہ مضمون میں بھی اشارہ کیا تھا یہی نہیں کہ حکومت کو بہت دیر میں ہوش آیا بلکہ خدشہ یہ ہے کہ اس کی یہ بیداری شرر نا پائیدار کی طرح دیر پا ثابت نہ ہو۔چیف کمشنر نے اپنے بیان میں اِس امر کا اعتراف کیا کہ عالیہ فساد کرائے کے غنڈوں کے ذریعہ بو پا ہوا تھا اگر یہ میچ ہے تو پھر ضرور ایسے لوگ ہونے چاہئیں جنہوں نے کرایہ پر ان غنڈوں کی قدمات حاصل کیں۔ہم پوچھتے ہیں ان لوگوں کی نشان دہی کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں؟ اور اگر ان کی نشان دہی ہو چکی ہے تو پھر ان کے خلاف کیا کا رروائی عمل میں آئی ہے ، یہ خیال کر نا عبث ہے کہ ہرقسم کے ہنگامی اور غیر ہنگامی قوانین وضع کر لینے کے بعد حکومت میں اچانک ایک ایسا فطری تغیر رونما ہوتا ہے کہ وہ اپنے اختیارات کے استعمال سے خود ہی کترانے لگی ہے حقیقت الا مریہ ہے کہ حکومت نے اب تک اِس بارے میں کوئی معین پالیسی ہی وضع نہیں کی اور نہ ہی اس میں اتنی الامر ہمت ہے ہمیں اس کا امکان بھی نظر آ رہا ہے کہ کہیں حکومت ایک مرتبہ پھر بے تعلقی اور لاپر واہی