تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 140
۱۳۷ استزاد یہ کہ ہماری حکومت جو اپنی ذات میں ملی اختیارات مجتمع کرنا چاہتی ہے ایسے شرکب عناصر کے بر وقت انسداد کے لئے معمولی اختیارات کے استعمال سے بھی گریزاں ہے۔گذشتہ اتوار کو بے شک حکومت نے سخت قدم اُٹھایا اور صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے کراچی میں پولیس کی کافی تجمعیت موجود تھی لیکن اگر ہماری حکومت زیادہ مستعد ہوتی ، یا سخت اقدام کے لئے ہر وقت جرات مندی سے کام لیتی تو یقیناً وہ فتنہ جسے روکنے کے لئے بال آخر یہ سب کچھ انتظامات کرنے پڑے بہت پہلے ہی دیا دیا جاتا۔یہ باور نہیں کیا جا سکتا کہ حکام اس فتنہ سے جو اندر ہی اندر پرورش پا رہا تھا بے خبر تھے یا ان کے لئے چند لوگوں کی نشان دہی ممکن نہ تھی جو اعلانیہ یا در پردہ فتنہ پردازی کی مہم کو ہوا دینے میں مصروف تھے ہمیں اس بحث سے کوئی واسطہ نہیں کہ مذہبی اعتبار سے کسی فرقہ کا موقف زیادہ صحیح ہے اور کس کا کم لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایک مہذب سوسائٹی میں کیسی مذہب یا سیاسی جماعت کے اس حق کا احترام لازمی ہے کہ وہ اپنے مقاصد کی تبلیغ کر سکے البتہ یہ ضروری ہوگا کہ ایسا کرتے ہیں مروجہ قانون اور عام ضابطہ کی خلاف ورزی نہ ہو۔جہاں تک اس قضیہ کا تعلق ہے احمدیوں کو پبلک جلسے کرنے کا اتنا ہی حتی ہے جتنا ان کے مخالفین کو ہے۔اگر یہ حق استعمال کرتے ہیں ان دونوں میں سے کوئی ایک قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے تو اس بارے میں اصلاحی قدم اٹھانا حکومت کا کام ہے نہ عوام الناس کا۔اسی طرح اگر دوسرے فرقوں کے لوگ بھی اسی طرح ایسے ہی جرم کا ارتکاب کریں تو بھی اصلاح بحال کی یہی صورت ہوگی۔برخلاف اس کے اگر نوبت یہاں تک پہنچ بھائے کہ کوئی فرقہ یا گرو حقیقی یا محض خیالی و بعد اشتعال کو آڑ بنا کر قانون اپنے ہاتھ میں لے لے تو اس طرح معاشرے کا وجود ہی معرض خطر میں پڑھائے گا۔لیکن کیا کیا بجائے کافی مکروہ حد تک پاکستان کے مختلف حصوں میں ایسا ہی کچھ وقوع میں آتا رہا ہے۔اس ہفتہ کے واقعات سے قطع نظر پہلے ہی ہم تعصب و عدم داداری کے اس جذبہ کا بعض نمایاں اور واضح صورتوں میں مشاہدہ کرتے رہے ہیں بعض لوگوں کو کھلم کھلا قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ان کا زیادہ سے زیادہ قصور یہ تھا کہ انہوں نے مذہبی امور سے تعلق رکھنے والے معاملات میں اظہار خیال کرنے میں احتیاط سے کام نہیں لیا۔اسی طرح تقریر و تحریر کے ذریعہ على الاعلان تشدد کا پرچار کیا گیا لیکن حکومت کمال بے تعلقی سے اس صورت حال کا نظارہ کرتی رہی