تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 139
۱۳۹ گریبان خود دیکھے۔یہ ماننا پڑے گا کہ ہمارے اور تمہارے مقابلہ میں اس فرقہ کا ہر فرد اپنے طریقہ طر جیب کا سختی سے پابندگی احکام خداوندی کو بجالانے والا ہے ہم لوگ نہ تو نماز روزہ کے پابنتیں اور نہ کسی نیک کام کے عادی صرف زبانی جمع خروج کے علاوہ باقی اللہ کا نام۔اس گمراہ کن پراپیگینڈہ کا نتیجہ یہ ہے کہ ارمٹی کی رات کو جہانگیر پارک کے جلسہ میں ہنگامہ ہوا۔اول تو ہمارے انڈے پر اٹھنے والے مولوی دوسرے ہم تعلیم یافتہ اخبار نویس حضرات بلا وجہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں نتائج سے بے خبر رہتے ہوئے ایسا خطر ناک پراپیگینڈہ کرتے ہیں جو کسی وقت بھی بجائے فائدہ کے ملک و ملت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو گا۔پاکستان میں شہرشخص اور ہر فرقہ کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور رہے گی کیا اچھا ہوتا کہ اگر اسلام کے تمام فرقے قائد اعظم کے اصول عمل، اتحا دا و تنظیم پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کو ترقی کی راہ پر لے جانے کی کوشش کریں " ۳۔اخبار ڈان انگریزی نے مریضہ اور مئی ۱۹۵۲ ء کی اشاعت میں لکھا:۔گذشتہ دنوں کراچی میں مسلسل دو روز تک تشدد کا جو شرمناک مظاہرہ ہوتا رہا ہے اسے محض اتفاقی حادثہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔اس سے تعصب اور قانون شکنی کے اس خطرناک رجحان کی نشان وہی ہوتی ہے جو ملک میں دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔پاکستان کی مذہبی اور سیاسی زندگی میں مسلمہ خوبیوں کے انحطاط پذیر ہوئے اور رواداری کی بجائے قریب قریب لاقانونیت کی سی کیفیت پیدا ہونے کی ذمہ داری ہمارے بہت سے مذہبی اور سیاسی لیڈروں پر عائد ہوتی ہے لیکن ان سے کہیں زیادہ اس صورت حال کی خود حکومت ذمہ دار ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی اصول اور اسلامی اتحاد کی ضرورت اور اس کی اہمیت بیان کرتے ہیں لوگوں کی زبان نہیں تھکتی لیکن عجب یستم ظریفی ہے کہ اس بارے میں کوئی بجتنا زیادہ چرب زبان واقع ہوا ہے اتنا ہی وہ رواداری کے اصولوں کو نواک میں ملانے اور لوگوں کو خود آشتہ و پر اکسانے میں پیش پیش نظر آتا ہے۔حالانکہ مذہبی آزادی اور رواداری کے جذبات ہی اسلام کی اصل روح ہے۔رواداری کے اصول کو بخاک میں ملانے والے یہ چرب زبان لوگ اسلام اسلام کیکارنے کے باوجود مسلمانوں کے درمیان تشتت و افتراق کی خلیج دن بدن وسیع کر رہے ہیں اور پھر اس پر