تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 136
۱۳۳ (۱۹) انہیں۔ایم احمد (۲۰) مسٹر رھنا (۲۱) سید ممتاز الدین (۲۲) قاضی خورشید علی (۲۳) شبیر حسین (۲۴) نصیر حسین (۲۵) آغا علی حیدر (۲۶) محمد علی خان (۲۷) کبیر الدین منال (۲۸) محمد جلال الدین (۲۹) فیض الجلیل (۳) مسٹر کرمانی (۳۱) پی اے بین والا (۳۲) محمد حسن صدیقی صدر ( سوم ایس ایم نور الحسن (۳۴) افتخار الدین (۳۵) عبدالمجید (۳۶) حافظ محمد صدیقی (۳۷) ایم نجم الدین قریشی۔(۳۸) حید ر حسین (۳۹) محمد داؤد (۴۰) سید اسے رفیق سابق صدر (۴۱) حیات احمد خاں۔(۴۲) ایم فصیح الدین (۴۳) ایم ایس قریشی (۴۴) عبد المجید خان (۴۵) عبد الرؤف (۴۶) استید معزز حسین (۴۷) کے اسے قدوائی۔حادثہ کراچی اور کنونیشن کار و عمل مغربی حادثہ کراچی اور پاکستان کا محب وطن پر لیں پاکستان کے محب وطن اور تین سنجیده بیت پولیس پر بھی کہا شدید ہوا اور نہ صرف کراچی بلکہ دوسرے صوبوں کے اخبارات نے بھی اس کی پر نزور دمت کی بلکہ کراچی کے بعض اخبارات نے تو مخدشہ ظاہر کیا کہ اس ہنگامہ آرائی کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ کام کر رہا ہے اور کسی بیرونی سازش کا نتیجہ ہے۔مشہور مسلم لیگی راہ نما سردار شوکت حیات کا کہنا ہے " تحریک ختم نبوت بھی ایک سازش کا نتیجہ تھی۔یہ تحریک مرکزی حکومت کے سی ایس پی افسروں نے چلائی تم نے ذیل میں بطور نمونہ بعض اخبارات و رسائل کے تبصرے درج کئے جاتے ہیں۔1- کراچی کے ہفتہ وار اخبارہ ایونگ سٹار نے ۲۴ مئی ۱۹۵۲ء کو صفحہ اول پر ایک کراچی مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا KARACHI RIOTS" "WHO DIRECTED (کراچی کے بلوں میں کیس کا ہاتھ تھا ہی اس مضمون کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے :۔احمدیہ کا نفرنس کے دوران جو اکا دُکا فسادات ہوئے اور جن کے نتیجہ میں کئی گرفتاریاں ہوئیں۔کئی لوگ زخمی ہوئے اور ایسے ناخوشگوار حالات پیدا ہوئے جن سے کراچی کا پر سکون ماحول کبھی آلودہ نہ ہوا تھا بہترین سمجھتے ہیں کہ ان کے پیچھے کوئی بیرونی ہاتھ کام کر رہا ہے۔ه روزنامه مشرق لاہور ۵ چون ۱۹۷۰ ء مث