تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 137
۱۳۴ ران بد نما مظاہروں کے لئے جو وقت منتخب کیا گیا وہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔اور یہ وہ وقت تھا جبکہ امریکی شہ پر منعقدہ MPO تما شا بری طرح ناکام ہو چکا تھا۔جس طریق پر ہ کو نظر انداز کیا گیا اور اس کی تذلیل کی گئی۔نہ صرف عوام اور پریس کی طرف سے بلکہ حکومت کی طرف سے بھی امریکینوں کو یہ بہت تلخ محسوس ہوا ہے۔غالب خیال نہیں کیا جاتا ہے کہ وزیر خارجہ چو ہدری محمد ظفر اللہ خان کی وجہ سے ہوا ہے۔زخم خوردہ امریکیوں کے لئے اس سے بہتر اور کوئی موقع ندیل سکا کہ وہ عوام کو وزیر خارجہ کے خلاف بھڑکا سکیں۔احمدیہ کا نفرنس گلی MPO کے کھنڈرات پر منعقد ہو رہی ہے۔MPO کا پنڈال ابھی تک گر ایا جا رہا ہے اور ایسی جہانگیر پارک میں ہی چوہدری ظفر اللہ خان کو اپنی زندگی کا بدترین مظاہرہ دیکھنا پڑار اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ امریکن سفارت خانہ اور ان کے قونصل خانے اس ملک میں ہمیشہ وہی کردار ادا کرتے رہے ہیں جو بین الا قوامی سیاست کے حلقوں میں ادا کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔گزشتہ کئی ہفتوں سے امریکنوں کو سرکاری یا نیم سرکاری پریس کی ناخوش گوار تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔جہانگیر پارک میں کراچی کو جو نظارہ دیکھنا پڑا وہ پخت وحشت ناک تھا شہر میں اس قدر بے لگامی کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔آنسو گیس یا لاٹھی چارج اس شہر میں عملی طور پر کبھی دیکھنے میں نہیں آئے۔جو بات اِسے اور بھی بد تر بنا رہی ہے وہ یہ کہ یہ ایک مذہبی کا نفرنس کا موقعہ تھا۔باوجود اس امر کے کہ اس کے پیچھے ایک غیر ملکی ہاتھ تھا ایک بدنما داغ یہ ہے کہ ایک مخالف گروہ ایک کا نفر نس درہم برہم کر رہا ہے اور پولیس ہنگامہ کو فرو کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو ایک ملک کے دارالسلطنت کی توہین ہے یہ راسی اخبار نے ۱۹ جون ۱۹۵۲ء کی اشاعت میں حسب ذیل ادار یہ بھی لکھا:۔ہم نہایت سختی سے ان تمام لوگوں کی مذمت کرتے ہیں جو جہانگیر پارک میں غنڈہ گردی کے لے مضمون کا متن کتاب کے آخر میں بطور ضمیمہ درج کیا جا رہا ہے ؟