تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 135
۱۳۲ در ایک اعلیٰ محکومت کے بقاء کا انحصار صرف اس کے دلکش فلسفہ اور نظریات پر نہیں ہوتا جو اوراق پر مکتوب ہوں یالا سیلکی سے نشر کئے بیائیں بلکہ اس کا انحصار ہر فرد چاہے وہ اقلیتی فرقہ سے ہی کیوں نہ تعلق رکھتا ہوں کے اس درجہ ایقان پر ہے جو اسے ملکی قوانین کی رو سے اپنے اظہار خیالات اور عملی جد وجہد کی ادائیگی کے لئے دئے گئے قانونی حقوق کے متعلق تحاصل ہے۔4 ہمیں علاقی دار الحکومت ہیں جو پاکستانی قوم اور اس کے احساس کا منظر ہے کسی غنڈہ گردی کو برداشت نہیں کرنا چاہیئے۔اگر مختلف فرقوں کے درمیان سند بات منافرت کو پھیلانے کی اجازت دی گئی تو یہ مملکت کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔یم میشہ ملحوظ خاطر رہنا چاہیئے کہ وقت کی نزاکت اس امر کی متقاضی ہے کہ پاکستان کے شہریوں میں ایسی حالت میں جبکہ ہم دشمنوں سے گھرے ہوئے ہیں اتحاد کے جذبات کی ہمت افزائی کی بجائے اور اندرون مملکت ایک مضبوط چٹان کی مانند یک جہتی پیدا کی جائے۔۔ہر گروہ سے جو کسی حیلہ سے پھوٹ پیدا کرے مذہبی اختلافات کی آگ کو ہوا د سے کرانا ر کی پھیلائے مملکت کے انتہائی خطرناک دشمن کا سا سلوک کیا جائے۔۱۰۔ہم عوام سے مستدعی ہیں کہ وہ ہر گمراہ کن تحریک سے اجتناب کریں جو ملک کے اتحاد کو کمزور اور اس کی پرسکون فضا کو زہر آلود کرے۔ا اہم چیف کمشنر صاحب صوبہ کراچی کے امن اور قانون کی برقراری کے سلسلہ نہیں اختیار کئے گئے طرز عمل اور بیان کی پرزور حمایت کرتے ہیں جو انہوں نے اس مقصد پر قیام امن کے بارے میں دیا ہے۔دستخط ایڈووکیٹ و وکلاء صاحبان وام سید بشیر احمد رضوی (۲) ثروت حسین (۳) فاروقی صاحب (۴) محمد معجز علی (۵) ایم ہے جمیعنی (4) زیڈ اپنی نقوی (۷) ایسی علی حسین (۸) عبد الحکیم خان (۹) ایم خان (۱۰) انعام الحق (11) شیخ عبد الغنی (۱۲) اے، ایسے قریشی سیکریٹری (۱۳) ایس ایم۔ایسی حسینی (۱۴) امیر حسن علی رضوی (۱۵) آسمانند جوشی (۱۶) ایسی جعفر حسین (۱۷) ایم آری عباسی (۱۸) پی ، الیف کھلنانی۔