تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 133 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 133

۱۳۰ حسب معمول گڑ بڑ ہوئی اور جو لوگ گڑ بڑ کے ذمہ دار تھے انہیں گرفتار کر کے تھانے پہنچا دیا گیا۔اس رات کو جلسہ گاہ میں پتھراؤ بھی ہوا تھا جس سے پولیس کے اس پاہی زخمی ہوئے۔گرفتار شدگان کو خلیفہ ختم ہونے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔ارمئی کو جلسہ گاہ کے باہر مہنگامہ ہوا اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے پولیس کو محکم ہوا اور گیس استعمال کرنا پڑی جس ہجوم کو پولیس نے جہانگیر پارک کے قریب منتشر کیا تھا اُس نے شیزان ریسٹورنٹ کے شیشے وغیرہ توڑ ڈالے اور اندر گھس کر فرنیچر کو آگ لگانے کی ناکام کوشش کی۔اس کے بعد ہجوم نے شاہ نواز موٹر ز کمپنی کی دکان کے شیشے توڑے اور احمدیہ فرنیچر اسٹور کو آگ لگادی میں سے ایک ہزار روپے کا نقصان ہوا۔کل رات کے ہنگامہ میں گل ساٹھ آدمی گرفتار ہوئے اور اُن کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ہجوم کا رویہ بہت زیادہ قابل اعتراض تھا اور وہ اپنے اس رویہ کا کوئی جواز پیش نہیں کر سکتے۔یہ ضروری ہے کہ ہر پاکستانی کو قانونی حدود ہیں رہتے ہوئے اپنے مذہبی اعتقادات پر عمل کرنے کی پوری آزادی حاصل ہے۔قادیانیوں کے ان دونوں جلسوں کی کارروائی پولیس کے رپورٹروں نے قلم بند کی ہے اور اگر مقررین نے اپنی تقاریر میں کوئی قابل اعتراض بات کہی ہے تو حکومت ان کے خلاف کا رروائی کرے گی لیکن کسی شہری کو یہ حق نہیں پہنچنا کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کو غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے لیکن یہ تنبیہ کو چکا ہوں کہ اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔۔۔چیف کمشنر نے بتایا کہ ان کے پاس جلسے سے کئی روز قبل اس قسم کے تار آئے تھے کہ جیسے میں گڑ بڑ ہو گی اور ان کا خیال تھا کہ اس گڑ بڑ میں کسی جماعت کا ہاتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والوں میں مجلس احرار کے چند کارکن ہیں اور اس امر کی تحقیق ہو رہی ہے کہ اور کسی جماعت کا اس میں ہاتھ ہے یا نہیں۔بر نقوی نے کہا " غنڈوں اور کرایہ کے آدمیوں کے ذریعہ ہنگامہ کرایا گیا تھا۔۔۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جن اشخاص یا جماعتوں نے اپنی تحریروں کے ذریعہ لوگوں کو اس قسم کا ہنگامہ کرنے پر اُکسایا تھا اُن کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی بھائے گی۔۔چیف کمشنر نے اس سوال کے جواب میں کہ اگر کراچی میں ہندو کوئی جلسہ کر کے اسلام پر تبصرہ کریں تو حکومت انہیں آسکی اجازت دے گی ؟ " کہا ضرور بشر طیکہ وہ قانونی حدود سے باہر نہ بوائیں اسے به جنگ کراچی اور مئی ۶۱۹۵۲ - شیخ حسام الدین صاحب صدر مجلس احرار نے (بقیہ حاشیہ اگلے مصر پر)