تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 132 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 132

تھا۔اپین ار محمد علی جناح اسلام کے اقتصادی اور سیاسی نظام کے خلاف کسی سرمایہ داری کے نظام کو چلائے تو نفع کیا اور اگر جواہر لحل اور گاندھی خلفائے راشدین کی پیروی میں سوسائٹی میں نابرابری کے سارے نقوش کو مٹاتے چلے جائیں تو بطور مسلمان کے تمہیں نقصان کیا ہے اے پھر لکھا :۔مچنین احرار کا ہر دستور عمل اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مرتب کیا جاتا ہے اس لئے پاکستانی کے مسئلے پر غور کرنے سے قبل ہمیں یہ جان لینا چاہئیے کہ اسلام دنیا میں کسی قسم کی جغرافیائی سیم یا وطنوں کا تعین کرنے نہیں آیا۔۔ہم وطنی تقسیم کے قائل نہیں ہم تو صرف ایک ہی تقسیم کے قائل ہیں اور وہ ہے دولت کی منصفانہ تقسیم کئے ا مندرجہ بالا احراری مسلک و عقیدہ کی روشنی میں چیف کشنر کراچی کی پریس کانفرس نگاری کی ایک اصول اپنی نظر میں کرنے کے بعداب ہم اس کے اندرون و بیرون ملک سر و عمل کی طرف آتے ہیں اور سب سے پہلے یہ بتاتے ہیں کہ طلبہ کے اگلے روز 19 مئی کو کراچی کے چیف کشتر مسٹر ابو طالب نقوی نے ایک پر یس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:۔انیمین احمدیہ کراچی کے زیر انتظام دو جلسے ہوئے پولیس کی اطلاع کے مطابق ان جلسوں میں گڑبڑ کا اندیشہ تھا اس لئے جہانگیر پارک میں پولیس کی جمعیت تعینات کر دی گئی تھی۔ارمٹی کو الضامة خود امیر شریعت احداث جناب سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے قیام پاکستان کے بعد کہا:۔سیاستدانوں نے جغرافیائی نقشہ اُٹھا کہ اس پر ضرب و تقسیم کی ہے لیکن اس کی بدولت " بڑی مدت کے لئے انسان مر گیا ہے۔بر عظیم میں تبلیغ کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے ہم نے سیاسی حقوق کے حصول کی خاطر دینی فرائض سے بغاوت کر دی ہے۔یہ پاکستان سیاسی نیز بدوں کی آماجگاہ ہوں کے رہے گا یہ کتاب سید عطاء اللہ شاہ بخاری ها موقعہ شورش کا شمیری مدیر چٹان مطبوعہ چٹان پرنٹنگ پریس مر و میکلوڈ روڈ لاہور)