تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 127 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 127

۱۲۴ آپ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف صاحب شریعت نہیں بنایا بلکہ آپکو خاتم النبیین کا بے مثال مقام عطا فرمایا اور وہ کتاب بخشی جو منتصر سی کتاب ہونے کے با وجود معانی و مطالب میں غیر محدود ہے اور ایک صحیفہ میں گویا کئی سمند رہن ہیں۔ان حقائق پر روشنی ڈالنے کے بعد آپ نے قرآن مجید کی اس خصوصیت کو پیش کیا کہ خدا تعالیٰ نے اس کے نزول کے ساتھ ہی اس کی لفظی ، لغوی اور معنوی ہر اعتبار سے حفاظت کا وعدہ فرمایا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :- انا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ له میں نے یہی اس ذکر کو نازل کیا اور نیکی ہی اس کی حفاظت کرونگا قرآن مجید کی معنوی حفاظت کے ضمن میں آپ نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے منظوم اور عارفان کلام میں سے متعدد اشعار پڑھے جن میں حضرت اقدس علیہ السلام نے ضایت وجد آفریں اور روح پرو انداز میں خدا تعالی قرآن مجید خاتم الانبیاء حمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے فضائل و محاسن کا تذکرہ فرمایا ہے۔چوہدری صاحب نے اپنی تقریر کے آخر میں واضح فرمایا کہ احمدیت خدا کا لگایا ہوا پودا ہے۔یہ پودا قرآنی وعدہ کے عین مطابق اسلام کی حفاظت کے لئے لگایا گیا ہے اور اس غرض سے لگایا گیا ہے تا اس زمانہ میں بھی اسلام کا زندہ مذہب ہونا ، قرآن کا زندہ کتاب ہونا اور خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زندہ رسول ہو نا پوری دنیا پر ظاہر ہو جائے۔تحقیقاتی عدالت کی رپور میں ا ا ا ا ا ا ا ا ر ات یا عدالت می باید کراچی تحقیقاتی ۱۹۵۳ء میں اور چوہدری صاحب کی تقریر کا خاص طور پر ذکر کیا ہے چنانچہ لکھا ہے :- در کراچی میں اشتہار دیا گیا کہ انجمن احمدیہ کراچی کا ایک علیہ ۱۸۰۱۷ مئی ۱۹۵۲ء کو جہانگیر پارک میں منعقد ہوگا اور اس میں دوسرے مقررین کے علاوہ چوہدری ظفر اللہ خان بھی تقریر کریں گے اگر چہ یہ جلسہ انجمن احمدیہ کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا تھا لیکن یہ جلسہ عام تھا جس میں جمہور کا کوئی فرد بھی تقریریں سننے کے لئے شریک ہو سکتا تھا۔اس جلسے سے چند روز پہلے خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم سورة الحجر آیت :10