تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 125 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 125

۱۲۲ پولیس پر پتھر وغیرہ پھینکے اور مقابلہ کیا لیکن پولیس نے انہیں پیچھے ہٹا دیا اور ان کا ایک آدمی بھی حفاظتی لائن کے اندر داخل نہ ہو سکا۔اس ہنگامہ میں جماعت کے بعض احباب کو بھی نہیں یہ حکم تھا کہ وہ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہیں پولیس کے لاٹھی چارج سے چوٹیں آئیں۔اس سے قبل بجلی کی تاریں کلٹ دی گئیں۔لاؤڈ سپیکر گرا دیا گیا لیکن چونکہ سٹیج پر لاؤڈ سپیکر ٹھیک کام کر رہا تھا اس لئے وہ اپنی اس حرکت سے بھی جلسہ کو خراب نہ کر سکے جلسہ ختم ہونے کے بعد لوگ باہر جانے لگے تو بعضی احمدیوں کی کاروں پر بلکہ اُس کار پر بھی جس میں علماء کرام تشریف لے جارہے تھے پتھر پھینکے گئے جس سے کا بروں کے شیشے ٹوٹ گئے اور بعض کو سخت نقصان پہنچا۔دوسرے دن اتوار کی صبح کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب نے جہانگیر پارک کے چاؤں دوسرا اجلاس طرف آدھ آدھ میل تک دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی اور تمام شہر میں اعلان کرایا کہ احمدیہ جماعت کا جلسہ جہانگیر پارک میں بدستور منعقد ہو گا لیکن پارک کے ارد گرد و قصه ۱۴۴ نافذ کر دی گئی ہے کوئی آدمی لاٹھی وغیرہ ساتھ لے کر نہ آئے اور پانچ سے نہ اٹلہ آدمی با ہر جمع نہ ہوں۔دوسرے دن کے جلسے میں تلاوت قرآن کریم اور تنظیم کے بعد حسب ذیل موضوعات پر تقاریر ہوئیں :- ا۔جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات مولانا عبد المالک خان صاحب ۲۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل احمدیہ کو مولانا ابو العطاء صاحب نقطہ نگاہ سے۔چو ہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب وزیر خارجہ پاکستان نے اسلام زندہ مذہب ہے۔ا۔مخالفین احمدیت کے اعتراضات کے جوابات۔مولانا جلال الدین صاحب شمس انخلا میں دوم میں بھی شور و غوفا بلند کرتے ہیں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی گئی۔ایں ہمہ لیکس کی کاروائی بدستور جاری رہی۔اس روز سامعین کی تعداد سات آٹھ ہزار کے قریب تھی جلسہ میں چیف کشتر صاحب بقیہ کاش می فر گذشتہ :۔مت منو اگر ہو سکے تو اپنی جماعت سے خارج کر دو بحث کر کے ساکت گیر تا اگر ہو سکے ضرور ہے ورنہ ہاتھ سے اُن کو جواب دوی" تذكرة المهرشید حصہ اول هنا سوانح مولوی رشید احمد صاحب گنگویسی مولفہ مولوی محمد عاشق باشی صاحب میرٹھی ناشتہ حافظ محمد مقبول اٹھی صاحب طبع دوم مطبع محبوب المطابع دہلی)