تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 118 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 118

۱۱۵ سفید لباس پہنتی تھیں مگر ان میلا نہیں مجھے یاد ہے جس دن ایام عدت ختم ہوئے آپ نے غسل کیا ، صاحت لباس پہنا، عطر لگا یا اور اس دن جو کیفیت صدمہ کی اور پھر ضبط آپ کے چہرہ سے مترشح تھا وہ تحریر میں نہیں آسکتا۔آپ کا رونا نمازوں کا رونا ، دعاؤں کا رونا ہوتا تھا ویسے نہیں۔روزانہ کشتی تغیر جاتیں اور نہایت رقت سے دعائیں کرتیں۔وہ آپ کی حالت دیکھی نہیں جایا کرتی تھی میں مقام میں آخری آرام کرنے کے لئے آپ کی روح چالیس سال تڑپ سے انتظار کرتی رہی اور دل جس زمین کو دیکھ دیکھے کر بے قرار ہوتا رہا اُس میں آپ کے جسد مبارک کا فی الحال رکھا جانا تقدیر الہی کے مطابق نہ تھا۔دل بے چین ہو جاتا ہے جب یاد کرتی ہوں کہ قادیان سے آنے کا صدمہ بھی میرا اور تحمل سے برداشت کر بجانے والی میری اماں بھائی کس بے قراری سے وہاں سے آکر بار بار کہا کرتی تھیں کہ مجھے قادیان مرور پہنچاتا یہاں نہ رکھ لینا (یعنی بعد وفات) اگر کوئی گھبراہٹ ظاہراً دیکھی تو لیس ایک اسی بات کے لئے ! سخت گرب پیدا ہوتا ہے اِس خیال سے کہ یہ آرزو حضرت اماں جان داغ ہجرت میں وفات کی پورانہ ہونا اور اُن کا ہجرت میں واری جدائی دینا بے شک پیشگوئی کی اور داغ کے مطابق ہوا مگر کہیں ہم لوگوں کی شامت اعمال تو اس وقت کو نز دیک نہیں کھینچ لائی ہیں منشاء المی تھا اور ضرور تھا۔جو ہونا تھا وہ ہوا مگر آپ تو مخدا کرے وہ دن بھی جلد ہی لائے کہ حضرت امان جانی کی تمنا کو پورا کرنے والے آپ لوگ نہیں اور ہم سب اس طرح حضرت اماں جانیے کو اُن کے اصل مقام میں لے جائیں جس طرح جانا ان کے شایان شان ہے (آمین) بہت سال ہوئے حضرت سید نا بھائی صاحب نے ایک دن مجھے ایک دعا اور اُس کی قبولیت کہا تھا کہ "یکی بھی یہ دعا کیا کرتا ہوں تم بھی کیا کرو کہ امالی جانی کو خداتعالی مدت دراز تک سلامت رکھے مگر اب امانی جانی ہم میں سے کسی کا صدمہ نہ دیکھیں یا میں نے اُس دن سے اس دعا کو ہمیشہ یاد رکھا اور اپنی خاص اِس دعا کے ساتھ کہ ایسا وقت اس حالت میں نہ آئے کہ میں اماں جان سے دُور ہوں۔میں سالہا سال مالیر کوٹلہ وہی کو بار بار اور جلد جلد آتی تھی کیونکہ حضرت اماں جانی اور اس گھر کو، بھائیوں کو دیکھے بغیر مجھے چکن ہی نہ آتا تھا مگر جب بھی وہاں ہوتی حضرت اماں جان کے متعلق تو تمات مجھے چکن سے نہ رہنے دیتے۔لیکں نے میاں مرحوم سے صاف کر یہ گھا یعنی سید نا حضرت مصلح موعود :