تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 111 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 111

ہے بعض اوقات خود بھنگنوں کے سر پر کھڑے ہو کر صفائی کرواتی تھیں اور ان کے پیچھے لوٹے سے پانی ڈالتی جاتی تھیں۔گھر میں اپنے ہاتھ سے پھولوں کے پودے یا سیم کی بیل یا دوائی کی غرض سے گلو کی بیل لگانے کا بھی شوق تھا اور عموما انہیں اپنے ہاتھ سے پانی دیتی تھیں۔مرضیوں کی عبادت مریضوں کی عادت کایہ عالم تھاکہ جب کبھی کسی حد عورت کے متعلق رینشتیں احمدی کہ وہ بیمار ہے تو بلا امتیاز غریب و امیر خود اس کے مکان پر جا کر عبادت فرماتی تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق تسلی دیا کرتی تھیں کہ گھبراؤ نہیں بخدا کے فضل سے اچھی ہو جاؤ گی۔ان اخلاق فاضلہ کا یہ نتیجہ تھا کہ احمدی عورتیں حضرت امالی جان پر جان چھڑکتی تھیں اور اُن کے ساتھ اپنی حقیقی ماؤں سے بھی بڑھ کر محبت کہتی تھیں۔اور جب کوئی منکر کی بات پیش آتی تھی یا کسی امر میں مشورہ لینا ہوتا تھا تو حضرت اماں جان کے پاس دوڑی آتی تھیں۔اس میں ذرہ بھر بھی شبہ نہیں کہ حضرت اتان جان کا مبارک وجود احمدی مستورات کے لئے ایک بھاری ستون تھا۔بلکہ حق یہ ہے کہ ان کا وجود محبت اور شفقت کا ایک بلند اور مضبوط مینار تھا جس کے سایہ میں احمدی خواتین بے انداز راحت اور برکت اور ہمت اور تسلی پاتی تھیں۔امگر غالباً حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے تقولی اور توکل تقوی اور توکل کے دو واقعات اور دینداری اور اخلاق کی بلندی کا سب سے زیادہ شانظر اظہار ذیل کے دو واقعات میں نظر آتا ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بعض اقرباء پر اتمام حجت کی غرض سے خدا سے علم پا کر محدی بیگم والی پیشگوئی فرمائی تو اس وقت حضرت مسیح موعود نے ایک دلا دیکھا کہ حضرت اماں جان علیحدگی میں نماز پڑھ کر بڑی گریہ و زاری اور سونہ و گداز سے یہ دعا فرما رہی ہیں کہ خدایا ! تو اس پیشگوئی کو اپنے فضل اور اپنی قدرت نمائی سے پورا فرما جب وہ دعا سے فارغ ہوئیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُن سے دریافت فرما یا کہ تم یہ دعا کہ رہی تھیں اور تم جانتی ہو کہ اس کے نتیجہ میں تم پر سوکی آتی ہے ؟ حضرت اماں جان نے بے ساختہ فرما یا خواہ کچھ ہو تجھے اپنی تکلیف کی پروا نہیں میری خوشی اسی میں ہے کہ خدا کے منہ کی بات اور آپ کی پیشگوئی کو بری ہو۔دوست سوچیں اور غور کریں کہ یہ کس شان کا ایمان اور کس بلند اخلاقی کا مظاہرہ اور