تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 110 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 110

1۔6 یعنی قیامت کے دن میں اور قسموں کی پرورش کرنے والا شخص اس طرح اکٹھے ہوں گے جس طرح کہ ا ایک ہاتھ کی دو انگلیاں باہم پیوست ہوتی ہیں۔امہمان نوازی بھی حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے اخلاق کا طرہ امتیاز تھلہ اپنے مهمان نوازی عزیزوں اور دوسرے لوگوں کو اکثر کھانے پر بلاتی رہتی تھیں اور اگر گھر میں کوئی خاص چیز بکتی تھی تو ان کے گھروں میں بھی بھجوا دیتی تھیں۔بنا کسار راقم الحروف کو علیحدہ گھر ہونے کے باوجود حضرت اماں جھان نے اتنی دفعہ گھر سے کھانا بھجوایا ہے کہ اس کا شمار نا ممکن ہے۔اور اگر کوئی عزیہ یا کوئی دوسری خاتون کھانے کے وقت حضرت اماں جان کے گھر میں جاتی تھیں تو حضرت اماں جہان کا اصرار ہوتا تھا کہ کھانا کھا کر واپس جاؤ چنا نچہ اکثر اوقات زبر دستی روک لیتی تھیں۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مہمان نوازی ان کی روح کی غذا ہے۔عیدوں کے دن حضرت اناں جان کا دستور تھا کہ اپنے سارے خاندان کو اپنے پاس کھانے کی دعوت دیتی تھیں اور ایسے موقعوں پر کھانا پکوانے اور کھانا کھلانے کی بذات خود نگرانی فرمائی تھیں اور اس بات کا بھی خیال رکھتی تھیں کہ فلمای عزیزہ کو کیا چیز مرغوب ہے اور اس صورت میں حتی الوسع وہ چیز ضرو ریکواتی تھیں۔جب آخری عمر میں زیادہ کمزور ہو گئیں تو مجھے ایک دن حسرت کے ساتھ فرمایا کہ اب مجھ میں ایسے اہتمام کی طاقت نہیں رہی میرا دل چاہتا ہے کہ کوئی مجھ سے رقم لے لے اور میری طرف سے کھانے کا انتظام کر دے۔وفات سے کچھ عرصہ قبل جب کہ حضرت اماں جان بے حد کمزور ہو چکی تھیں اور کافی بیمار تھیں مجھے ہماری بڑی عمانی صاحبہ نے جو اُن دنوں میں حضرت اماں جان کے پاس اُن کی عیادت کے لئے ٹھری ہوئی تھیں فرمایا کہ آج آپ یہاں روزہ کھولیں۔میں نے خیال کیا کہ شاید یہ اپنی طرف سے حضرت اتاں جان کی خوشی اور ان کا دل بہلانے کے لئے ایسا کہہ رہی ہیں چنانچہ میکی وقت پر وہاں چلا گیا تو دیکھا کہ بڑے اہتمام سے افطاری کا سامان تیار کر کے رکھا گیا ہے۔اس وقت ممانی صاحبہ نے بتایا کہ مکی نے تو اتان جان کی طرف سے اُن کے کہنے پر آپ کی یہ دعوت دی تھی۔محنت کی عادت حضرت اماں جان رضی اللہ ناہیں بے حد مفت کی عادت تھی اور ہر چھوٹے سے چھوٹا کام اپنے ہاتھ سے کرنے میں راحت پاتی تھیں۔میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے بارہا کھانا پکاتے ، چرخہ کاتنے ، نوار بکتے بلکہ بھینسوں کے آگے پھارہ تک ڈالتے دیکھا