تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 101
۹۸ اصحاب نهایت رفت اور سوز و گداز کے ساتھ دعاؤں میں مصروف تھے۔رقت کا یہ سماں اپنے اندر ایک خاص روحانی کیفیت رکھتا تھا۔تابوت پر چھت ڈالنے کے بعد حضرت امیر المومنین نے ۸ بجکر ۲۲ منٹ پر قبر یہ اپنے دست مبارک سے مٹی ڈالی جس کی تمام احباب نے اشباع کی جب قبر تیار ہوگئی تو حضور نے پھر مسنون طریق پر مختصر دعا فرمائی۔نماز جنازہ میں شرکت کرنے والے احباب کا اندازہ نامہ نگار الفضل کی رائے کے مطابق چھ سات ہزار تھا جو پاکستان کے ہر علاقہ اور ہر گوشہ سے تشریف لائے تھے۔علاوہ ازیں پندرہ سولہ وہ غیر ملکی طلباء بھی شامل تھے جو دنیا کے مختلف حصوں سے دین سیکھنے اور خدمت دین میں اپنی زندگی میر کرنے کے لئے ربوہ آئے ہوئے تھے۔ان غیر ملکی طلبہ میں چلین ، جاوا ، سماٹرا ، ملایا ، برما، شام، مصر، سوڈان، ہمیشہ، مغربی افریقہ، جرمنی، انگلستان اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے طلبہ شامل تھے لیے اگلے روز ریڈیو پاکستان سے ۲۲ اپریل ۵۲ ، بوقت ۵ بجکر ۲۰ منٹ شام ریڈیو میں خبر حسب ذیل خبر نشر کی گئی۔و آج زیرہ میں سلسلہ احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد صاحب کی اہلیہ محترمہ سیدہ نصرت جہاں بیگم کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ان کی وفات کل (۱۲۰ اپریل یہ وزرا توار) ربوہ میں ہوئی تھی۔ایک بڑے مجمع نے جنازہ میں شرکت کی۔نماز جنازہ ان کے بڑے صاحبزادے مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے پڑھائی۔آپ سلسلہ احمدیہ کے موجودہ امام ہیں یا پاکستانی پر میں نے حضرت سیدہ موصوفہ کی وفات پر اطلاعات شائع پریس میں اطلاعات کہیں۔اس سلسلہ میں لاہور کے اخبارات میں سے احسان ، آفاق، خاتون امروز سول اینڈ ملٹری گزٹ اور پاکستان ٹائمز خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ا چنانچه روزنامه احسان (لاہور) نے ۲۴ اپریل ۱۹۵۳ء کو لکھا :- مرزا غلام احمد کی بیوہ ربوہ میں دفن کر دی گئیں لاہور ۲۲- اپریل - بانی جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد کی اہلیہ نصرت جہاں سکیم کو آج صبح ربوہ میں به روزنامه الفضل لاہور ۲۳ شهادت ۱۳۵۱ مش مطابق ۲۳ اپریل ۱۹۵۲ء ص ۲۵