تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 100
۹۷ حضرت مرزا بشیر احمصاحبت اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے متعدد دیگر افراد جنات سے کو کندھا دے رہے تھے اور ساتھ ساتھ قرآن مجید اور احادیث نبویہ کی دعائیں بعض اوقات خاموشی کے ساتھ اور بعض اوقات کسی قدر بلند آواز سے دہرارہے تھے۔چونکہ احباب بہت بڑی تعداد میں آچکے تھے اور ہر دوست کندھا دینے کی سعادت حاصل کرنے کا متمنی تھا اس لئے رستے میں یہ انتظام کیا گیا کہ اعلان کر کے باری باری مختلف دوستوں کو کندھا دینے کا موقع دیا جائے۔چنانچہ صحابہ مسیح موعود، امرائے صوبجات، اصلاح یا ان کے نمائندگان بیرونی ممالک کے مبلغین، غیر ملکی طلباء، کارکنان صدر انجمن احمدیہ و تحریک جدید، مدارس، بیجا اس ظلام الاحمدی انصار اللہ کے نمائندگان اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد کے علاوہ مختلف مقامات کی جماعتوں نے بھی وقفے وقفے سے جنازہ کو کندھا دینے کی سعادت حاصل کی۔سیدنا حضرت امیر المومنین حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض افراد نے شروع سے آخری تک کندھا دئے رکھا۔چھ بجکر چھپتی منٹ پر تابوت جنازہ گاہ میں پہنچ گیا، جو موصیبیوں کے قبرستان کے ایک حصہ میں مولانا جلال الدین صاحب شمس اور مکرم میاں غلام محمد صاحب اختر کی مساعی سے قبلہ رخ خطوط لگا کر تیار کی گئی تھی مینوں کی درستی اور گنتی کے بعد سات بجبکہ پانچ منٹ پر سید نا حضرت امیر المومنین مصلح موعود نے نماز جنازہ شروع فرمائی جو سات بجکر سترہ منٹ تک جاری رہی۔نماز میں رقت کا ایک ایسا عالم طاری تھا جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔نماز جنازہ کے بعد تابوت مجوزہ قبر تک لیجایا گیا جہاں اتاں بھائی کو امانتاً دفن کرنا تھا۔قبر کے لئے حضور کے منشاء کے ماتحت قبرستان موصیاں ربوہ کا ایک قطعہ مخصوص کر دیا گیا تھا۔ہمجوم بہت زیادہ تھا اس لئے نظم وضبط کی خاطر مجوزہ قبر کے اردگرد ایک بڑا حلقہ قائم کر دیا گیا جس میں جماعت کے مختلف طبقوں کے نمائندگان کو بلا لیا گیا چنانچہ صحابہ کرام مختلف علاقوں کے امراء، افسران صیفہ جائے بیرونی مبلغین غیر ملکی طلباء اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد کو اس حلقہ میں میلا کر شمولیت کا موقع دیا گیا۔ہوئے آٹھ بجے تابوت کو قبر میں اتارا گیا۔اس وقت سید نا حضرت مصلح موعود اور تمام حاضر الوقت