تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 91
AA ایسی مکمل اور تجدید لٹریچر سے آراستہ لائبریری کا منصوبہ رکھا جو سلسلہ احمدیہ کی جمع علمی و تبلیغی ضرورت میں اس کو خود کفیل بنا دے۔حضرت مصلح موعود کے ذہن میں جماعت احمدیہ کی مرکز کی لائیر یہ ہی اور اس کے کارکنوں کے فرائض کا نقشہ کیا تھا ؟ اس کی تفصیل حضور انور کے مبارک الفاظ ہی میں درج ذیل کی جاتی ہے۔فرمایا :- لائبریری ایک ایسی چیز ہے کہ کوئی تبلیغی جماعت اس کے بغیر کام نہیں کر سکتی۔۔۔یہ اتنی اہم چیز ہے کہ ہمارے سارے کام اس سے وابستہ ہیں تبلیغ اسلام مخالفوں کے اعتراضات کے جواب تو بیت یہ سب کام لائبریری ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔اس وقت تک جتنا کام ہو رہا ہے یا تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی لائبریری سے ہو رہا ہے اور یا پھر میری لائبریری سے ہو رہا ہے لیکں نے اپنے طور پر بہت سی کتابیں جمع کی ہوئی ہیں جن پر میرا انچاس ساٹھ بلکہ ستر ہزار روپیہ خرچ ہو چکا ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو کتابوں کا شوق تھا اور آپ نے بھی ہزاروں کتابیں اٹھی کی ہوئی تھی۔وہ کام آتی ہیں لیکن وہ جماعت جو ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کے کام کے لئے کھڑی ہوئی ہے اس کے علوم کی بنیاد کسی دوسرے شخص کی لائبریری پر ہونا عقل کے بالکل خلاف ہے۔ہمارے پاس تو اتنی مکمل لائبریری ہونی چاہیئے کہ جس قسم کی مکمل مذہبی لائبریری کسی دوسری جگہ نہ ہو مگر ہمارا خانہ اس بارہ میں بالکل خالی ہے۔پچھلے سال لائبریری کی مدمیں میں نے کچھ تم رکھوائی تھی مگر وہ زیادہ ترا الماریوں وغیرہ پر ہی صرف ہوگئی۔شائد بارہ چودہ سو روپیہ الماریوں پر صرف ہو گیا تھا باقی جو روپیہ بچا اس میں سے ایک کتاب ہی آٹھ سو اسی روپیہ میں آئی ہے اور جو باقی کتابیں منگوائی گئی ہیں ان کی قیمت سردوست امانت سے قرض لے کر دی گئی ہے۔مرض میں نے ایک خاصی رقم کتابوں کے جمع کرنے پر خرچ کی ہے تقسیم کے وقت قادیان میں میری لائبریری کی بہت سی کتابیں رہ گئیں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی لائیر بوی کا بھی ایک اچھا خاصہ حصہ وہیں رہ گیا اور گورنمنٹ نے اس لائبریری کو تالا لگا دیا میرے بیٹے چونکہ وہاں موجود تھے اس لئے لیکن شروع ہجرت میں ان کو لکھتا رہا کہ میری کتابیں بھیجوانے کی کوشش کرو چنانچہ انہوں نے میری بہت سی کتب بھجوا دیں لیکن انہیں کے نمائندوں نے ہوشیاری سے کام نہ لیا اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی کتابوں کا اکثر حصہ وہیں رہ گیا۔۔۔