تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 92
۸۹ پھر دنیا میں نئی سے نئی کتابیں نکل رہی ہیں اور ان کتابوں کا منگوانا بھی ضروری ہے صرف مذہب سے تعلق رکھنے والی ہی نہیں بلکہ تاریخی اور ادبی کتابیں منگوانا بھی لائبریہ ہی کی تکمیل کے لئے ضروری ہوتا ہے۔میرا اندازہ یہ ہے کہ اچھی لائبریری وہ ہو سکتی ہے جس میں کم سے کم ایک لاکھ پہلے منتخب کردہ کتب کی موجود ہو۔اور اگر ایک جلد کی اوسط قیمت ۲۵ روپے لگائی جائے تو میرے نزدیک صرف ایک لائبریری کے لئے پچیس لاکھ روپیہ ہونا چاہیے لیکن ظاہر ہے کہ پچیس لاکھ روپیہ خرچ کرنے کی ہم میں ہمت نہیں۔ایسی صورت میں یہی طریق رہ جاتا ہے کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق اس بوجھ کو اٹھائیں اور اس کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیشہ اس کام کو اپنے سامنے ھیں اور اپنی لائبریری کو زیادہ سے زیادہ مکمل کرتے پہلے جائیں۔لائبریری کا بجٹ بھی پرائیویٹ سیکرٹری کے پیٹ میں ہو گا گو اس کے خرچ کا تعلق لائبریری سے ہو گا۔عام طور پر ہمارا طریق یہ ہے کہ جب ہم یکھتے ہیں کہ ہم میں کسی کام کی تہمت نہیں تو ہم اس کام کو کرتے ہی نہیں حالانکہ کچھ نہ کچھ ضرور کرنا چاہیئے۔پیس کی تجویز کروں گا کہ فائنانس کمیٹی ان تمام حالات کو دیکھ لے اور پیٹ میں اس کی گنجائش رکھتے۔اور جماعت کو بھی اس بات کی اجازت ہوگی کہ اگر وہ دیکھے کہ میری کوئی تجویز ضروری تھی مگر فائنانس کمیٹی نے اس طرف توجہ نہیں دی تو وہ ترمیم کے طور پر اس کو بیان مجلس میں پیش کر دے میری تجویز یہ ہے کہ سیر دوست ہم کو دنس ہزار روپیہ سالانہ کے خرچ سے لائبریری کے کام کو شروع کر دینا چاہیئے لیکن دس ہزار روپیہ سالانہ خرچ کرنے کے بھی یہ معنے ہیں کہ ہم اڑھائی سو سال میں پچیس لاکھ روپے کی کتابیں اکٹھی کر سکیں گے۔پس میرا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں ہمیشہ دن ہزار روپیہ پر ہی کھڑے رہنا چاہئیے جوں جوں ہماری تبلیغ بڑھے گی اور چندہ میں زیادتی ہو گی یہ رقم بھی بڑھتی چلی جائے گی۔چنانچہ اگر اللہ تعالیٰ چاہیے تو ہم اس خرچ کو کسی وقت لاکھ دو لاکھ بلکہ دس پندرہ لاکھ سالانہ بھی کر سکتے ہیں۔یہ دن ہزار و پیر صرف کتابوں کے لئے ہو گا۔عملہ جو تھوڑا بہت پہلے بجٹ میں رکھا جا چکا ہے وہ الگ ہوگا شائد اس میں بھی کچھ زیادتی کرنی پڑے گی کیونکہ مجھے بتایا گیا ہے کہ لائبر یہ مین کے طور پر صرف ایک ہی نیا آدمی کھا گیا ہے حالانکہ وہاں کم از کم دو آدمی اور ہونے چاہئیں۔له FINANCE COMMITTY (مانیات کی نیتی)