تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 89
лу خواجہ محمد یعقوب صاحب نے حضور کی خدمت میں ایک سو روپیہ اس فنڈ کے لئے پیش کیا جس پر حضور کی خدمت بابرکت میں نقدی پیش کرنے کی ایک عام رو پیدا ہوگئی اور حضور کے اردگرد اتنا ہجوم ہو گیا کہ نظم و ضبط کی خاطر انہیں قطاروں میں کھڑا کرنا پڑا چنا نچہ دیکھتے ہی دیکھتے چار ہزار سے زائد روپیه نقد اور ایک ہزار روپیہ سے زائد کے وعدے وصول ہو گئے۔خواتین کی طرف سے /۹۰/۶ نقد کے علاوہ دو طلائی انگوٹھیاں بھی حضور کی خدمت میں پیش ہوئیں۔چندہ دینے کا یہ سلسلہ ابھی پورے جوش و خروش سے بھاری تھا کہ حضور نے مجلس کی کارروائی کی خاطر اسے روک دینے کا اعلان کیا اور ارشاد فرمایا کہ مسجد فنڈ کے مزید چندے اور وعدے بعد میں دئے جائیں لیے سب سے پہلے احمدی تاجر جنہوں نے مشاورت کے معا بعد اس مالی جہاد میں حصہ لیا اور ڈھائی سور و پیر اس مد میں بھیجوایا حضرت شیخ کریم بخش صاحب آف کوئٹہ کے فرزند شیخ محمد اقبال صاحب ہیں جن کا ذکر خصوصی خود حضرت مصلح موعود نے خطبہ جمعہ ۲۶ ہجرت ۱۳۳۱اہش میں فرمایا۔قیام کا انہوں نے اس شادی پہ اشاعت اشاعت لٹریچر کیئے دوکیوں کے قیام کا اعلان کر کے نئے صدر بھی حمیدہ اور لڑیچر کے انجمن تحریک تجدید کی دو اشاعتی کمپنیوں کے قیام کا بھی اعلان فرمایا۔ایک کمپنی اردو لٹریچر کے لئے اور ایک کمپنی غیر ملکی زبانوں خصوصاً عربی زبان کے لٹریچر کے لئے !! کمپنیوں کے سرمایہ کی نسبت حضور نے پر فیصلہ فرمایا کہ: مخلافت جوبلی فنڈ کا روپیہ جو دولاکھ ستر ہزار کے قریب ہے کیں اس کمپنی کو دیتا ہوں جو صدر انجین احمدیہ کی ہوگی۔اس کے علاوہ گزشتہ سالوں میں صدر انجمن احد یہ چھ ہزار روپیہ سالانہ مجھے گزارہ کے لئے قرض کے طور پر دیتی رہی ہے بعض سالوں میں اس سے کم رقم بھی لی ہے ہر حال آپ لوگ مجھے امداد کے طور پر وہ رقم دینا چاہتے تھے اور میں نے قرض کے طور پر لی۔اب میں چاہتا ہوں کہ اس رقم کو بھی جب یکی اورا کر نے کے قابل ہوسکوں تو اس مد میں ادا کر دوں۔اس رقم کو ملاکر تین لاکھ ستر ہزار بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ رقم جمع ہو جائے گی کچھ سرمایہ پہلے سے اس مد میں فروخت کتب سے حاصل ہو چکا ہے اسے ملا کہ قریباً چار لاکھ روپیہ کا سرمایہ ہو جاتا ہے۔جب کمپنی جاری ہو تو اس له الفضل ۷ شهادت ۳۳۱ آہش ص : الفضل ۱۳- احسان ۳۳۱ اش صدا