تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 88
۸۵ روج پیدانہ کریں یا وہ اپنے اندر عقل اور دانائی سے کام لینے کی روح پیدا نہ کریں ، اس کے نمائندہ سے بھی در حقیقت صحیح رستہ اور سچائی سے ایسے ہی دور ہوں گے جیسے اس جماعت کے افراد جن کا کوئی نمائندہ نہیں ہوتا۔پس یہ جو ہم شوری کرتے ہیں وہ اس غرض کو تو پورا کرتی ہے کہ اگر جماعت کے افراد صحیح ہوں تو شورای مفید ہو سکتی ہے لیکن اس غرض کو پورا نہیں کرتی کہ اس کے افراد ٹھیک ہوں افراد کا ٹھیک ہونا ان کے اپنے ارادے اور کوشش کے صحیح ہونے پر مبنی ہے۔یہ وہ کام ہے جو آپ لوگ کر سکتے ہیں کوئی نمائندہ نہیں کر سکتا۔دل کی اصلاح کے لئے انسان کی اپنی بعد وجہد کی ضرورت ہے۔اس کی اپنی کوشش کی ضرورت ہے۔اگر تم ٹھیک ہو جاؤ تو تمہاری شوری اور مشورے بھی ٹھیک ہو جائیں اور پھر صحیح مشورے پورے بھی ہو جائیں کیونکہ اگر تم صحیح ہو گے تو تم اپنے مشوروں کو پورا کرنے کی کوشش کرو گے یہ لے مشاورت دفتر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے ہال میں منعقد ہوئی جس مشاورت کے عمومی کوائف میں سے نمائندوں نے شرکت فرمائی۔بیرونی مالک میں سے ۳۷۳ راس مرتبہ جرمنی، امریکہ، سوڈان، انڈونیشیا اور چین کے نمائندے بھی شامل ہوئے فیصلہ ہوا کہ آئندہ سال نیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے قریباً تیرہ لاکھ روپیہ خرچ کیا جائے بعد رامین کا میزانیہ جس کی منظوری حضرت امام ہمام نے عطا فرمائی پندرہ لاکھ 24 ہزار روپیہ پشتمل تھا۔اس تقریب پر حضور نے تعمیر مساجد کے چندہ کی فراہمی چند تعمیر مساجد کا مستقل نظام کے لئے ایک مستقل نظام تجویز فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ (1) ملازم ہمیشہ اپنی سالانہ ترقی کے پہلے ماہ کی رقم (۲) بڑے پیشہ ور ایک مہینے کی آمد کا پانچواں حصہ (۳) چھوٹے پیشہ ور مہینے کی کسی معینہ تاریخ کی مزدوری کا دسوای حصہ (۴) تاجر اصحاب مہینہ کے پہلے سودا کا منافع اس میں دیا کریں۔اور (۵) زمیندار احباب ہر فصل پر ایکٹر زمین میں سے ایک کرم کے برابر چندہ تعمیر مساجد ادا کیا کریں۔مندرجہ بالا طبقوں کے نمائندوں نے خلیفہ وقت کے سامنے بشاشت کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ مجوزہ نظام کے مطابق بالالتزام چندہ دیا کریں گے۔اس موقعہ پر سیالکوٹ کے ایک تاجر دوست الفصل ۲۳ شهادت ۳۳۱ آش ص :