تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 84 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 84

" اپنے چندوں میں با قاعدہ تھے۔موصی تھے۔ہر مرکزی تحریک میں ضرور حصہ لیتے بلکہ مقامی چندوں میں بھی امداد کرنے سے دریغ نہ کرتے۔ایک دفعہ 19 میں خاکسار نے حقیقہ اسیح نامی کتاب لکھی طباعت کے واسطے روپے کی ضرورت تھی مولوی صاحب کو معلوم ہوا تو آپ نے بیوی سے ذکر کیا کہ میرے پاس اس وقت کوئی پیسہ نہیں ہے۔یہ کتاب تبلیغ کے لئے چھاپنی ضروری ہے۔ان کی بیوی صاحبہ نیکی میں ان کے نقش قدم پر تھیں انہوں نے اپنے زیور اتار کر دے دیئے یا اے خلیفہ وقت سے عقیدت و شیفتگی کا یہ عالم تھا کہ مرض الموت میں جب کہ آپ بستر مرگ پر تڑپ رہے تھے آپ نے اپنے فرزند مرزا عبد اللہ جان صاحب سے کہا کہ کل حضور ربوہ میں سجد مبارک کی بنیا درکھیں گے اس موقع پر مسجہ احمدیہ پشاور میں بھی اجتماعی دعا ہو گی تم نے اس میں ضرور شامل ہوتا ہے۔آپ آخر دم تک قرآنی آیات اور دعاؤں کا ورد کرتے رہے۔مومن اگر تقوی وطہارت سے کام لے تو کبھی نہیں مرتا» " صالح بنو متقی بنو خدا تمہاری مدد کرے گا، آپ کے آخری الفاظ تھے کیے آپ کا جنازہ آپ کے چھوٹے بھائی مرزا غلام حیدر وکیل نوشہرہ نے پڑھایا اور آپ امانتا احمد قبرستان پشاور میں سپردخاک کئے گئے سے حضر می نشی سید صادق حسد صاحب مختار اور یوپی و حکیم ار علی صاحب :- بیعت در اپریل له، وفات در اغار هش ۱۳۹۶ مطابق ۶ اکتوبر شاه بهر نوے سال ) ۳۱۳ اصحاب کبار میں آپ کا نام ۱۳۸ نمبر پر درج ہے ؟ داخیل احمدیت ہونے سے قبل بھی آپ کا شمار یوپی کے کامیاب اور مشہور وکیلوں میں ہوتا تھا الرحمت ۵ فتح ه ١٣٢ / ديسمبر ٩٢٩ ص : ٢٣ الفضل ۱۴ اخاء ۱۳۲۸ ۶۵ : + ے اولاد مرزا عبد الحفیظ صاحب، مرزا عبداللہ جان صاحب، مرزا منصور احمد صاحب، مرزا منظور احمد صاحب، مرزا بشیر احمد صاحب۔ان کے علاوہ تین بیٹیاں آپ کی یادگار ہیں ؟ کے رجسٹر بیعت ش الفضل ۱۳ وفاها حت کالم ۳ نوٹ سید رضا حسین احمدی عرائض نویں کلکٹری اٹاوہ یوپی) ضمیمہ انجام آتھم ص ، ملفوظات مسیح موعود جلدی صفحہ ۱۹۸ ۱۹۹ میں بھی آپ کا ذکر ملتا ہے ؟