تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 79 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 79

ZA دوران جہاد کا واقعہ ہے کہ ۲۶ جولائی ۱۹۷۳ کو موضع اسپار ضلع متھرا میں ایک مسلمان راجپوت فیائی نام نے مسجد کے باہر مسجد ہی کی زمین میں بکرے کی قربانی کی۔مرتدین آئے اور خفیہ طور پر گوشت لے گئے قریباً تین بجے بعد دو پر آریوں کو شیر ہوئی تو انہوں نے لوگوں کو آپ کے خلاف اکسایا اور کم و بیش چالیس پچاس کی تعداد میں ستم ہو کہ آپ کی رہائش گاہ پر حملہ کر دیا مولوی صاحب کو گالیاں دیں۔پھر ان کی جھونپڑی پر حملہ کر کے اسے گرا دیا آپ نیچے دب گئے اور ایک شخص نے آپ کو بازوؤں سے کھینچ کر باہر نکال پھر وہ لوگ آپ کو کھینچتے ہوئے گاؤں سے باہر لے گئے آپ اپنے بعض کا غذات لینے کے لئے سجد میں داخل ہونے لگے تو مسلح لوگ مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے بزور روکا اور آپ کو دھکے دے کر گاؤں بدر کر دیا گیا مگر آپ اسی گاؤں میں ڈٹے رہے۔چنانچہ جناب شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ ضلع لائل پور اس واقعہ کی تفصیل میں فرماتے ہیں :۔" میں مرحوم تین ماہ کی رخصت لے کر تبلیغی جہاد کے لئے آئے تو موضع سپار ضلع متھرا میں ن کی تعیناتی بطور مبلغ ہوئی گاؤں میں ایک کچا کو ٹھہ محمد کے نام سے موسوم تھا اس کے ساتھ ایک چھت تلے انہوں نے تنہاد پیر اجمایا اور کام شروع کیا اور اس خوشی اور حسین تدبیر سے کام کیا کہ قرب وجوار کے آریہ پر چارک اپنی چالبازیوں میں ناکام اور دیو بند می معاندین اپنی در اندازیوں میں خائب و خاسر ہو کر رہ گئے۔دونوں قسم کے مخالفین کو ایک ایسے ذہین اور فطین حریف سے پالا پڑا تھا جوہر جوڑ کا توڑ اور ہر زہر کا تریاق ان کے مقابلے میں اپنے پاس مہتا رکھتا تھا۔اسی طرح یہ کام جاری تھا کہ عید الاضحیہ آگئی مرزا صاحب مرحوم نے قربانی کا گوشت گاؤں میں تقسیم کیا تو شد بھی قبول کرنے والوں کے کام و دہن بھی اس سے محروم نہ رہے۔آریہ پر چار کوں کوجب اس کا علم ہوا تو وہ سرسیٹ کر رہ گئے۔آخر ایک بڑا جمع کر کے انہوں نے اشتعال انگیز تقریریں کیں کہ اس مولوی نے گوشت کی چند بوٹیوں سے تمہارا دھرم بھرشٹ کر دیا اور ہمارا صرف کثیر اور محنت سب اکارت گئے نتیجہ یہ تھا کہ میں چالیس بلوائیوں نے مولوی صاحب مرحوم پر ہلہ بول دیا، انہیں زدو کوب کیا اور چھپران کے اوپر گرا دیا پھر انہیں زمین پر گھسیٹا اور قتل پر آمادہ ہو گئے لیکن انہی میں سے چند ملکا نے جو مولوی صاحب کے زیر بارا احسان به بیان عبد اللہ خان صاحب بھٹی بی اے بی ٹی نائب امیر وفد المجا زرین گره افضل ۳ اگست ۱۹۳۳ م کالم مریم بیان میں سہو غیائی کی بجائے غیائی چھپ گیا تھا جس کی تصحیح کر دی گئی ہے ) ؟