تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 75
۷۴ سیکھنے لگا تو حضور کو دعا کے لئے عرض کیا تو حضور نے دعا فرمائی جس کی وہبر سے اللہ تعالیٰ نے بے حد برکت دی۔آپ حضرت اقدس علیہ السلام کی صداقت کے ایک عظیم نشان کے مینی شاہد بھی تھے جس کی تفصیل ان کے الفاظ میں یہ ہے :۔" جب ہمارے ملک میں طاعون پھوٹی تو ہمارے گاؤں قادر آباد میں بھی شروع ہوگئی اور بہت سے لوگ بیمار ہو گئے منجملہ ان میں سے میرے والد صاحب بھی تھے ہیں اور میری والدہ صاحبہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے پاس گئے آپ اُس وقت کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے میری والدہ صاحبہ نے سارا حال بیان کیا اور دعا کے لئے بھی عرض کی۔آپ نے ہاتھ اُٹھا کر دعا فرمائی اور اپنے میز کی دراز سے ایک بریسی (جد وار) کی گنڈی دی اور فرمایا کہ اس کو رگڑ کر پھوڑے پر لگاؤ اور چار پانچ آنے کے پیسے بھی دیئے اور آپ نے یہ حکم دیا کہ تم رَبِّ كُلَّ شَيْئُ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظَنِي وَانْصُرْنِ وَارْحَمْنِی بہت پڑھو اور لوگوں کو بھی پڑھاؤ میری والدہ صاحبہ نے عرض کیا کہ مجھے یہ دعا یا دنہیں رہے گی آپ اس کو کاغذ پر لکھ دیں تو آپ نے یہ دعا ایک کا غذ پر لکھ دی اور یہ بھی فرمایا کہ تم گھروں سے نکل جاؤ اور لوگوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی گھروں سے نکل جائیں تب ہم نے گھر آکر والد صاحب کی چار پائی گاؤں کے باہر درختوں کے نیچے بچھائی اور لوگوں کو بھی کہا کہ تم گھروں سے نکل جاؤ۔۔جو ان میں سے نکلے وہ بچ گئے اور باقی سب کے سب موت کا شکار ہوئے اور ہم نے حضور کے حکم کے مطابق تریسی کی گھنٹی پھوڑے پر لگائی اور عارت كُل شَيْيُّ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِي وَانْصُرْنِي وَ ارحمنى بکثرت پڑھی اور سب لوگوں کو یاد کرائی تب خداوند تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا سے اور آپ کے بیان کردہ علاج سے ہمارے والد صاحب کو شفا بخشی اور ہمیں نظموم و ہموم سے نجات بخشی یا لے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عید مبارک کی بعض مرکزی تعمیرات میں آپ کو مخدمت بجالانے کا موقع یلا تقسیم ملک سے پہلے جماعت احمدیہ قادر آباد کے پریزیڈنٹ تھے ہجرت نہ کے بعد اہل و عیال سمیت احمد نگر متصل ربوہ میں پناہ گزین ہوئے یہاں بھی ایک سال تک سیکرٹری ضیافت رہے۔مہمانوں کی خدمت شوق سے کرتے تھے طبیعت میں بہت فروتنی اور ملنساری تھی۔بزرگان سلسلہ کی خدمت کو سعادت اے رجسٹر روایات صحابہ جلدی ص۲۳