تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 68
منعقد ہوا جس میں دیگر علمائے سلسلہ کی تقاریر کے علاوہ حضرت امیر المومنین خلیفہ اسی الثانی الصلح الموعود نے اپنے روح پرور اور ایمان افروز خطابات سے نوازا۔حضور نے اپنی افتتاحی تقریر میں فرمایا : ہماری موجودہ مثال ان کمزور پرندوں کی سی ہے جو دریا کے کسی خشک حصہ میں ستانے کے لئے بیٹھے جاتے ہیں اور شکاری جو ان کی تاک میں لگا ہوا ہوتا ہے ان پر فائر کر دیتا ہے اور وہ پرندے وہاں سے اُڑ کر ایک دوسری جگہ پر جا کر بیٹھ جاتے ہیں ہم بھی آرام سے اور اطمینان سے دنیا کی چالاکیوں اور ہوشیاریوں اور فریبوں سے بالکل غافل ہو کر، کیونکہ مومن چونکہ خود چالاک اور فریبی نہیں ہوتا وہ دوسروں کی چالاکیوں اور فریبوں کا بھی اندازہ نہیں لگا سکتا۔اپنے آرام گاہ میں اطمینان اور آرام سے میٹھے تھے اور ارادے کر رہے تھے کہ ہم میں سے کوئی اُڑ کر امریکہ بجائے گا، کوئی انگلستان بنائے گا، کوئی جاپان جائے گا اور دین اسلام کی اشاعت ان جگہوں میں کرے گا لیکن میالاک شکاری اس تناک میں تھا کہ وہ ان غافل اور سادہ کوچ پرندوں پر فائر کرے چنانچہ اس نے فائر کیا اور چاہا کہ وہ ہمیں منتشر کر دے مگر ہماری جماعت جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں پرندہی قرار دیا گیا ہے اپنے اندر ایک اجتماعی روح رکھتی تھی۔یہ مشرقی پنجاب سے بہت سی قومیں بہت سے گاؤں نکلے، بہت سے شہر نکلے، بہت سے علاقے نکلے لیکن انہوں نے اپنے فعل سے ثابت کر دیا کہ وہ قومی روح اپنے اندر نہیں رکھتے تھے۔وہ پراگندہ ہوگئے ، وہ پھیل گئے، وہ منتشر ہو گئے یہاں تک کہ بعض جگہ پر بھائی کو بھائی کا، باپ کو بیٹے کا اور ماں کو اپنی لڑکی کا بھی حال معلوم نہیں۔صرف وہ چھوٹی سی قوم، وہ تھوڑے سے افراد جو دشمن کے تیروں کا ہمیشہ سے نشانہ بنتے چلے آئے ہیں۔اور جن کے متعلق کہنے والے کہتے تھے کہ دشمن کے حملہ کا ایک ریلا آنے دو پھر دیکھو گے کہ ان کا کیا حشر ہوتا ہے ؟ جونہی حملہ ہوا یہ لوگ متفرق ہو جائیں گے منتشر اور پراگندہ ہو جائیں گے وہی ہیں جو آج ایک مرکز پر جمع ہیں وہ کثیر التعداد آدمی جو وہاں سے نکلے تھے و پھیل گئے وہ بکھر گئے وہ پراگندہ ہو گئے مگر وہ چھوٹی سی جماعت جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ ایک معمولی سا ریلا بھی آیا تو یہ ہمیشہ کے لئے منتشر ہو جائے گی وہ مرغابیوں کی طرح اٹھی تھوڑی دیر کے لئے ادھر اُدھر ڈی مگر پھر جمع ہوئی اور ربوہ میں آکر بیٹھ گئی چنانچہ جو نظارہ آج تم دیکھ رہے ہو یہ خواہ اتنا شاندار نہیں