تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 63
سے کوئی گھبراہٹ ہو۔قادیان کے قیام کے دوران میں ہمارے دوستوں کو اُن ہندوستانی احمدیوں کی ملاقات کا بھی موقع ملا جو ہندوستان کے مختلف صوبوں سے جلسہ کی شمولیت کے لئے قادیان آئے تھے اور ان میں محترمی شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی حیدر آباد دکن اور چوہدری انور احمد صاحب کا ہوں امیر جماعت احمدیہ کلکتہ اور مولوی بشیر احمد صاحب امیر جماعت دہلی اور تحکیم خلیل احمد صاحب مونگیری اور سیٹھ محمد اعظم صاحب تاجر حیدرآباد دکن اور سیدار شد علی صاحب ارشد تا بجولکھنو اور مولوی محمد سلیم صاحب مبلغ مغربی بنگال بھی شامل تھے۔اور تین دوست کشمیر سے بھی آئے تھے۔ان ایام میں قادیان کے ہندوؤں اور سکھوں نے پاکستانی اور ہندوستانی زائرین اور بعض در ولشیوں کو چائے کی دعوت دی اور اس موقع پر ہمارے کئی دوستوں نے جن میں شیخ بشیر احمد صاحب امیر قافلہ پاکستان اور شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور حکیم خلیل احمد صاحب مونگیری شامل تھے دعوت دینے والوں کا شکریہ ادا کرنے کے علاوہ مناسب رنگ میں تبلیغ بھی کی۔اور ہمارا جلسہ تو گویا محبت تبلیغ ہی تھا کیونکہ اس میں بیشتر تعداد غیر مسلموں کی شامل ہوئی تھی اور وہ سب ہمارے مقررین کی تبلیغی تقریروں کو نہایت درجہ تو جہ اور سکون سے سنتے رہے۔بلکہ وہ اس بات کو سخت حیرت کے ساتھ دیکھتے تھے کہ یہ چند گنتی کے مسلمان اس درجہ غیر اسلامی ماحول میں گھرے ہوئے ہیں اور پھر بھی کرن جوت کے ساتھ ہمیں اسلام کا پیغام پہنچاتے اور اسلام زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ہمارا قافلہ ۳۰ دسمبر کو 1 بجے کے قریب قادیان سے روانہ ہو کر ہم بجے سہ پہر کے قریب رتن باغ لاہور میں پہنچ گیا اور بہت سے دوستوں نے دعا کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور پھر محترمی شیخ بشیر احمد صاحب امیر قافلہ اور محترمی میرمحمد بخش صاحب ایڈووکیٹ رپورٹ دینے کی غرض سے ربوہ بھی پہنچے۔قافلہ میں شامل ہونے والے اصحاب کے نام درج ذیل کئے جاتے ہیں :۔شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور امیر قانند ۲- مولوی محمد صدیق صاحب بالغ مغربی افریقہ حال لاہور ۳ شیخ مبارک احمد صاحب مبلغ مشرقی افریقہ حال ربود ضلع جھنگ ۴- شیخ محمد عمر صاحب (مهاشه، مبلغ ریوه در مرزا و احمد حسین صاحب (گیانی مبلغ ریوه ۶ میر حمد بخش صاحب ایڈووکیٹ کو برانوالہ ، چوہدری محمداحمد صاحب واقف زندگی کارکن تعلیم الاسلام کالج لاہور شکیل احمد صاحب مونگیری لاہور و منشی عبد الحق صاحب کا تب جو دھامل بلڈ نگ لاہو