تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 35 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 35

۳۴ گوشتی بناتا ہے جب حضرت ابراہیم اور حضرت معیل علیہما السلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے مکہ بنوایا تو اس وقت اس نے یہی کہا کہ یہاں تو شکل سے رہنا اور خدا تعالیٰ سے روٹی مانگنا بندوں سے نہ مانگنا اسی نیت اور ارادہ کے ساتھ ہمیں قادیان میں بھی رہنا چاہیئے تھا مگر وہ احمدیت سے پہلے کی بنی ہوئی بستی تھی اور بھی بہت سے لوگ اس سبق سے نا آشنا تھے لیکن یہ نئی بستی جہاں ایک طرف مدینہ سے مشابہت رکھتی ہے اس لحاظ سے کہ ہم قادیان سے ہجرت کرنے کے بعد یہاں آئے وہاں دوسری طرف یہ مکہ سے بھی مشابہت رکھتی ہے کیونکہ یہ نئے سرے سے بنائی جارہی ہے اور محض احمدیت کے ہاتھوں سے بنائی جارہی ہے جس طرح حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیہما السلام کے ہاتھ سے اللہ تعالے نے مکہ معظمہ بنوایا وہاں بھی خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیہما السلام کی نسل سے ہی کہا تھا کہ تم اپنی روٹی کا ذمہ دار مجھے سمجھنا کسی بندے کو نہ بجھنا پھر میں تم کو دوں گا اور اس طرح دوں گا کہ دنیا کے لئے حیرت کا موجب ہو گا چنا نچہ دیکھ لو ایسا ہی ہوا مکہ والے بے شک محنت مزدوری بھی کرنے لگ گئے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں اگر وہ محنت مزدوری چھوڑ دیتے تب بھی جیس طرح بنی اسرائیل کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک جنگل میں من و مسلولی نازل کیا تھا اسی طرح مکے والوں کے لئے من و سلوی اترنے لگے کیونکہ وہاں پر رہنے والوں کا رزق خدا تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے اسی طرح ہم کو بھی اس جنگل میں جس جگہ کوئی آبادی نہیں تھی تھیں جگہ رزق کا کوئی سامان نہیں تھا جو مکہ کی طرح ایک وادي غیر ذی زرع تھی اور جہاں مکہ کی طرح کمھاری پانی ملتا ہے اور جو اس لحاظ سے بھی منہ سے ایک مشابہت رکھتا ہے کہ مکہ کی طرح یہاں کوئی سبزہ وغیرہ نہیں اور پھر مکہ کے گرد میں طرح پہاڑیاں ہیں اس طرح اس مقام کے ارد گرد پہاڑیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے موقع دیا ہے کہ ہم ایک نئی بستی اللہ تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کے لئے بسائیں پس اس موقع پر ہمیں بھی اور یہاں کے رہنے والے سب افراد کو بھی یہ عزم کر لینا چاہیئے کہ انہوں نے خدا سے مانگتا ہے کسی بندے سے نہیں مانگنا تم اپنے دل میں سہنسو تمسخر کرو کچھ سمجھو حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں سب سے معززہ روزی وہی ہے جو خدا تعالیٰ سے مانگی جائے۔وہ کوئی روزی نہیں جو انسان کو انسان سے مانگ کر ملتی ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے (مگر یہ اعلی مقام کی بات ہے اور اعلیٰ درجہ کی روحانیت کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور شاہ تم میں سے بہتوں کی سمجھ میں بھی نہ آئے ) کہ وہ روزی بھی اتنی اچھی نہیں جو خدا تعالیٰ سے مانگ کر مانتی ہے، بلکہ اعلیٰ روزی وہ ہے جو