تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 34 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 34

آپ لوگوں کی زمینداریاں ہیں اسی طرح اُن لوگوں کی بھی زمینداریاں تھیں۔اگر آپ لوگ مختلف پیشوں سے کام لیتے ہیں مزدوری کرتے ہیں یا بڑھی اور لوہار کا کام کرتے ہیں تو وہ بھی یہ سب کام کرتے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ کے لئے نکلتے تو وہ سب کے سب آپ کے ساتھ چل پڑتے تھے اُس زمانہ میں جنگ تھی اس زمانہ میں تبلیغ کا کام ہمارے سپرد ہے۔آپ صحابہ سے فرماتے پہلو تو وہ سب چل پڑتے تھے وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ ہماری دکانیں بند ہو جائیں گی۔پھر یہ بھی نہیں کہ اُن کے بیوی بچے نہیں تھے۔آہٹکل لوگ یہ کہ دیا کرتے ہیں کہ اگرہم دین کی خدمت کے لئے جائیں تو ہمارے بیوی بچوں کو کون کھلائے گا ، سوال یہ ہے کہ آیا صحابیہ کے بیوی بچتے تھے یا نہیں ؟ اگر تھے تو جنگ پر جانے کے بعد انہیں کون کھلانا تھا چحقیقت یہ ہے کہ مذہب کی ترقی قربانی سے وابستہ ہے روپیہ ایک عارضی چیز ہے جیسے تحریک جدید کے ابتداء میں ہی لیکن نے کہ دیا تھا کہ روپیہ ایک ضمنی چیز ہو گی تحریک جدید کی اصل بنیاد وقف زندگی پر ہوگئی مگر میں دیکھتا ہوں کہ اب واقفین میں سے ایک حصہ کا رجحان روپیہ کی طرف ہو رہا ہے اور وہ یہ سوال کر دیا کرتے ہیں کہ ہم کھائیں گے کہاں سے ؟ سمالانکہ وقف کی ابتدائی شرطوں میں ہی صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ زندگی وقف کرنے والا ہر قسم کی قربانی سے کام لیگا اور وہ کسی قسم کے مطالبہ کا حقدار نہیں ہو گا۔حقیقت یہ ہے کہ جو شخص بعد کے لئے قربانی کرتا ہے خدا خود اُس کا مددگار ہو جاتا ہے۔آخر ہمارے وقف کے دو ہی نتیجے ہو سکتے ہیں یا تو ہمیں ملے یا نہ ملے۔میں ہمارے" کا لفظ اس لئے کہتا ہوں کہ میں بھی ہوائی سے دین کی خدمت کے لئے وقف ہوں اور یکس جب دین کی خدمت کے لئے آیا تھا اس وقت میں نے خدا تعالیٰ سے یا خدا تعالیٰ کے نمائندوں سے یہ سوال نہیں کیا تھا کہ میں اور میرے بیوی بچے کہاں سے کھائیں گے مگر اب تم میں سے کئی لوگوں کو یہ نظر آتا ہے کہ میرے پاس روپیہ بھی ہے اور یکں کھاتا پیتا بھی با فراغت ہوں مگر سوال یہ ہے کہ میں نے تو کوئی شرط نہیں کی تھی جو کچھ بندا نے مجھے دیا یہ اس کا احسان ہے میرا حق نہیں کہ میں اُس کی کسی نعمت کور و کروں لیکن جب میں آیا تھا اُس وقت میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ پہلے میرے اور میرے بیوی بچوں کے گزارہ کی کوئی صورت پیدا کی جائے اس کے بعد میں اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے وقف کروں گا یہ خدا کا سلوک ہے جس میں کسی بندے کو کوئی اختیار نہیں یا و مرض اللہ تعالیٰ پر تو قتل ہیں انسان کو حقیقی زندگی دیتا ہے اور تو نکل رہی ہر قسم کی برکات کا انسان