تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 33 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 33

۳۲ یہ خطبہ قصر خلافت کی کچی عمارت سے تصل عارضی مسجد میں دیا جس میں احمدیت کے اس نئے دینی مرکز کے قیام کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ اس پاک ہستی میں صرف انہی مخلصین کو رہنا چاہیئے جو عملاً واقف زندگی ہوں ہمیشہ خدا تعالیٰ پر تو کل دیکھیں اور ہر وقت خدمت دین کے لئے تیار رہیں۔حضرت امیر المومنین کے اس روح پرور خطبہ کے بعض ضروری اقتباسات درج ذیل کئے جاتے ہیں :۔" اب یہاں ہماری عمارتیں بنی شروع ہوگئی ہیں لوگ رہنے لگ گئے ہیں دکانیں کھل گئی ہیں کچھ کارخانوں کی صورت بھی پیدا ہو رہی ہے کیونکہ میگیاں وغیرہ لگ رہی ہیں مزدور بھی آگئے ہیں پیشہ ور بھی آگئے ہیں اور دفتر بھی آگئے ہیں مگر یہ سب عارضی انتظام ہے منتقل انتظام کے لئے یہ شرط ہوگی کہ صرف ایسے ہی لوگوں کو ربوہ میں رہنے کی اجازت دی جائے گی جو اپنی زندگی عملی طور پر دین کی خدمت کے لئے وقت کرنے والے ہوں میرا یہ مطلب نہیں کہ یہاں رہنے والا کوئی شخص دکان نہیں کر سکتا یا کوئی اور ہمیشہ نہیں کر سکتا۔وہ ایسا کر سکتا ہے مگر عملاً اُسے دین کی خدمت کے لئے وقف رہنا پڑے گا جب بھی سلسلہ کو ضرورت ہوگی وہ بلا چون و چرا اپنا کام بند کر کے سلسلہ کی خدمت کرنے کا پابند ہو گا مثلاً اگر تبلیغ کے لئے وفد جا رہے ہوں یا علاقہ میں کسی اور کام کے لئے اُس کی خدمات کی ضرورت ہو تو اُس کا فرض ہو گا کہ وہ فوراً اپنا کام بند کر کے باہر چلا جائے اپنی شرائط پر لوگوں کو زمین دی جائے گی اور جو لوگ اس کے پابند نہیں ہوں گے انہیں یہاں زمین نہیں دی جائے گی ہم چاہتے ہیں کہ یہ جگہ ایک مثالی جگہ ہو جس طرح ظاہر میں ہم اسے دین کا مرکز بنا رہے ہیں اس طرح حقیقی طور پر یہاں کے رہنے والے سب کے سب افراد دین کی خدمت کے لئے وقف ہوں وہ بقدر ضرورت دنیا کا کام بھی کرتے ہوں لیکن ان کا اصل مقصد دین کی خدمت اور اس کی اشاعت ہو یوں تو صحابہ بھی دنیا کے کام کرتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر میں کوئی ایک سپاہی بھی ایسا نہیں تھا جو تنخواہ دار ہو کوئی دکاندار تھا، کوئی زمیندار تھا، کوئی مزدور تھا، کوئی لوہار تھا، کوئی ترکھان تھا، نہ ض بارے کے سارے پیشہ ور تھے جس طرح آپ لوگوں کی دکانیں ہیں اسی طرح ان کی بھی دکانیں تھیں ہیں طرح بقیہ حاشیہ صفحہ گذشتہ : سالانہ رپورٹ ۲۸-۱۳۲۹اہش / ۴۹-۱۹۵۰ء کی بھی معلوم ہوتا ہے کہ 19 تبوک تا ۷ نبوت ۳۲ حضور لاہور میں قیام فرمار ہے لیکن اس دوران خطبہ جمود کے لئے با قاعدگی سے ربوہ تشریف لاتے رہے۔(حت )